آج جبکہ ہندتوادی عناصر بابری مسجد کے مقدمہ میں اپنی کامیابی سے مایوس ہوکر مجرمانہ سازشوں کے ذریعہ عدالت سے باہر ’’بات چیت‘‘ کے ذریعہ بابری مسجد کی زمین کو کسی نہ کسی طرح ہتھیالینے کی فکر میں ہیں ۔ ’’بات چیت کے ذریعہ باہمی رضامندی‘‘ سے فیصلے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ بابری مسجد کی زمین کے حق ملکیت سے مسلمان دستبردار ہوکر بابری مسجد کی زمین مندر بنانے کیلئے ہندتوادی عناصر کے حوالے کردیں ۔
اس لئے مسلمانوں نے بات چیت سے انکار کرکے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو ہی ترجیح دینے اور اس کے قابل قبول ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس لئے نام نہات بات چیت کا معاملہ ٹل گیا تھا۔ ایسے میں شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی نے صرف سنی مسلمانوں بلکہ شیعہ مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے اور اعلان کردیا کہ بابری مسجد شیعوں کی ملکیت ہے اس کی زمین اور متصلہ اراضی پر شیعہ بورڈ کی ملکیت ہے اور وہ اسے رام مندر کی تعمیر کیلئے قدیم تنازعہ ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ ساتھ ہی وسیم رضوی رام چندر جی کی دیوقامت مورتی کی تعمیر میں بھی شریک ہونا چاہتے ہیں ۔




















