گورکھا جن مکتی مورچہ اور دیگر پہاڑ کی سیاسی جماعتوں نے ہڑتال کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ہڑتال کی وجہ سے سیاحت جو یہاں کے مقامی لوگوں کیلئے آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بری طرح سے متاثر ہوگیا ہے ۔سیاح کی آمدکا سلسلہ روک گیا ہے اور اس کے علاوہ چائے باغات کو شدید نقصان پہنچاہے ۔چائے باغات جو پہلے سے ہی متعدد مسائل کے شکار تھے کیلئے یہ ہڑتال بہت بھاری ثابت ہوگا.
بدھ کے دن گورکھا جن مکتی مورچہ کے حامیوں نے گورکھا علاقائی کونسل کے محکمہ تعمیرات کے دفتر میں آگ لگادی تھی ۔اس کے علاوہ متعدد مقامات پر جی ٹی اے معاہدہ کی کاپی بھی جلائی گئی تھی۔جی ٹی اے معاہدہ مغربی بنگال حکومت، مرکزی حکومت اور گورکھا جن مکتی مورچہ کے درمیان 18جولائی 2011کو طے ہوا تھا ۔جی ٹی اے ایک سیمی خود مختار ادارہ تھا ۔جس پر گورکھا جن مکتی مورچہ کا قبضہ تھا ۔اس سال جولائی میں جی ٹی اے کیلئے معاہدہ ہونا تھا ۔




/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)













