خاشقجی قتل کیس پر بحث کو سرخیوں میں بنائے رکھنے میں بہت بڑا کردار ترکی کا ہے جبکہ امریکی کانگریس، انٹلیجنس اور میڈیا نے بھی اس پورے معاملے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ سعودی عرب نے ترک صدر کو شیشے میں اتارنے کی بڑی کوشش کی۔
ترکی کو اقتصادی لالچ بھی دی گئی، سعودی عرب نے ترکی کے سامانوں کے لئے اپنے بازاروں کے دروازے پوری طرح کھولنے کا اشارہ دیا لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی ۔ سعودی عرب نے امریکی ارکان پارلیمنٹ کو بھی خریدنے کی کوشش کی ۔
امریکی میڈیا کی . امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب نے کچھ ہی دنوں میں دو کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کی رقم خرچ کر دی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا کیونکہ امریکی سینیٹ نے سعودی عرب کے خلاف دو قرارداد اکثریت سے منظور کر دی ۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے بڑی کوشش کی اور امریکا میں موجود یہودی لابیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اسرائیل کی سیکورٹی کے لئے بن سلمان کا سعودی عرب کے اقتدار میں باقی رہنا بہت ضروری ہے ۔ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کی سیکورٹی کی دہائی دی تاہم یہ ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہوئے ۔
اتوار کو ترک وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے بیان دے کر اس معاملے کو پھر سے تازہ کر دیا کہ سعودی عرب نے ترکی سے جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے سے وابستہ اطلاعات کو لے لیں لیکن اس کے پاس جو خفیہ اطلاعات ہیں ان کا انکشاف نہیں کیا ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے میں قابل یقین تحقیقات کروائیں ۔