میں گاڑی پر اسی سواری کو ترجیح دیتا ہوں۔ جب مجھے اپنے گھر سے ماگام یا ماگام سے گھر آنا ہوتا ہے تو میں تانگہ پر بیٹھ کر یہ سفر طے کرتا ہوں’۔ وادی میں شمالی کشمیر کا اپیل ٹاون سوپور تانگہ سواری کا مرکز بنا رہا ہے ۔ اگرچہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سوپور میں رجسٹرڈ تانگوں کی تعداد محض 75 ہے ، تاہم سوپور کی سڑکوں پر قریب 250 سے 300 تانگے دوڑتے ہیں۔ قصبہ سوپور کے تانگہ بانوں میں دونوں ہاتھوں سے محروم شمیم احمد ڈار بھی ہے جو گذشتہ 25 برسوں سے تانگہ چلا رہا ہے ۔
انہوں نے ایک مقامی انگریزی روزنامے کو بتایا ہے ‘میں نے مارکیٹ میں ہٹے کٹے افراد کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا ہے ۔ وہ اللہ کو کیا جواب دیں گے ۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اگر میرے ہاتھ بھی نہیں ہیں، لیکن میں پھر بھی اپنے ضرورت کے پیسے کما لیتا ہوں’۔
شمیم کے مطابق جہاں مغربی ممالک کی حکومتیں تانگہ کلچر کو زندہ رکھ رہی ہے ، وہیں یہاں کی حکومت اسے ختم کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا ‘ انتظامیہ نے ہمیں بہت بار تانگے بند کرنے کے لئے کہا ۔ ہمیں گاڑیوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن ہم نے صاف انکار کردیا۔ کیونکہ ہمارے لئے اس پیشہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے پیشہ سے وابستہ ہونا ممکن نہیں ہے ‘۔