انہوں نے کہا ‘تانگے کو اُس سڑک پر چلانا آسان نہیں جس پر گاڑیاں چل رہی ہوں۔ میں گذشتہ بیس برس سے تانگہ چلا رہا ہوں۔ دن بھر تانگہ چلاتا ہوں تو زیادہ سے زیادہ پانچ سو روپے کما لیتا ہوں’۔ اسی روٹ پر تانگہ چلانے والے غلام محمد کا کہنا ہے کہ اس پیشے کے مستقبل کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا ‘تانگہ چلانا ہمارے خاندان کا موروثی پیشہ رہا ہے لیکن میں اب اپنے بچوں میں سے کسی کو بھی اس پیشہ سے وابستہ ہونے نہیں دوں گا۔ میرے بچے پڑھتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ کسی دوسرے اچھے سے کام کا انتخاب کرلے ۔ اس میں سڑکوں پر گاڑیاں آنے سے محنت بڑھ گئی ہے اور حکومت کو اس پیشے سے وابستہ لوگوں کا کوئی خیال نہیں ہے ‘۔
انہوں نے مزید کہا ‘گھوڑوں کا دیکھ بھال بھی آسان نہیں رہا ہے ۔ جتنا کماتے ہیں، اس کا 80 فیصد گھوڑوں کو چارہ کھلانے پر خرچ ہوتا ہے ۔ تانگہ ایک ایسی سواری ہے جس کو اگر آپ چلائیں گے بھی نہیں تب بھی آپ کی خرچی برابر ہے ‘۔ وسطی ضلع بڈگام کے قصبہ ماگام سے ہاگر پورہ پٹن تک تانگہ چلانے والے ایک شخص نے بتایا کہ انہیں اپنے تانگہ بان ہونے پر فخر ہے ۔