کشمیر کے جن علاقوں میں تانگہ چلنے کی روایت اب بھی برقرار ہے ، ان میں شمالی کشمیر کا سوپور، پٹن، وسطی کشمیر کا ماگام اور جنوبی کشمیر کا مٹن علاقہ قابل ذکر ہیں۔ تانگہ بانوں نے اس روایت کو زندہ رکھنے کے لئے اسے آمد ورفت کا سستا ذریعہ بنایا ہے ۔قریب سات کلو میٹر کے فیصلے پر چلنے والے ان تانگوں کا کرایہ زیادہ سے زیادہ دس روپے ہے اور اگر تانگہ بان دن بھر تانگہ چلائے تو اس کی دن کی آمدنی زیادہ سے زیادہ پانچ سو روپے ہوتی ہے ۔ یو این آئی نے شمالی اور جنوبی کشمیر میں متعدد تانگہ بانوں سے بات کی جن کا مجموعی طور پر کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو اس پیشے سے
وابستہ نہیں کریں گے ۔ ان کے مطابق ‘اس پیشے میں آمدن کم اور خرچہ زیادہ ہے ۔ جہاں یہ پیشہ حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے وہیں اب لوگ بھی تانگہ پر بیٹھ کر سفر کرنے میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ حکومت تانگوں کو ہیریٹیج کا حصہ قرار دینے کے بجائے ٹریفک جام کا سبب قرار دے رہی ہے ۔ ایسی صورتحال میں کون تانگے کی لگام اپنے بیٹے کے ہاتھ میں دے سکتا ہے ‘۔