انہوں نے کہا ‘میں گذشتہ 35 برسوں سے تانگہ چلا رہا ہوں۔ میری آمدی کا واحد ذریعہ یہی ہے ۔ اگرچہ اس سے حاصل ہونے والی کمائی ضرورت سے بہت کم ہے ، لیکن مجھے تب بھی اپنے تانگہ بان ہونے پر فخر ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں گھوڑوں کو چارہ کھلانا بھی بہت مشکل ہوگیا ہے ۔ سڑکیں بھی خستہ حال ہیں ۔
ان کا نہ صرف گھوڑوں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ تانگے کو بھی نقصان پہنچا ہے ‘۔ تانگہ کے ذریعہ ہر روز ماگام سے ہاگر پورہ تک سفر کرنے والے سید غضنفر کا کہنا ہے ‘ تانگہ پر بیٹھ کر سفر کرنے کا ایک الگ مزہ ہے ۔ اس پر سفر کے دوران ہم کھلی فضا میں سانس لیتے ہیں جو کہ گاڑی میں ممکن نہیں ہے ۔ یہ تانگے بادشاہوں کے وقت سے آمدورفت کا ذریعہ رہے ہیں۔
تانگوں پر سفر کرنے سے نہ صرف تانگہ بانوں کی روزی روٹی چلتی ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے ۔ گاڑیوں کے نسبت تانگہ سواری کا کرایہ بہت کم ہے ‘۔ سید غضنفر کے ساتھ سفر کرنے والے محمد قاسم کا کہنا ہے ‘میں زیادہ تر تانگہ پر ہی سفر کرتا ہوں۔