ان کے یہاں کا یہ رواج محض کھانے نذر کرنے اور پوجا کرنے تک محدود نہیں بلکہ جب وہ کوئی نئی چیز خریدتے ہیں تو بھی وہ سب سے پہلے اس کو ان قبروں کے سامنے رکھتے ہیں اور اس کے بعد ہی اس کا استعمال کرتے ہیں۔ شرینواسل نے بتایا کہ گاؤں والوں سے ان توہمات کی گہری جڑوں کو ختم کرنا بہت مشکل ہے اور اب انھوں نے گاؤں کے بچوں کو تعلیم دینے کا بیڑا اٹھایا ہے کیونکہ ان کے مطابق وہی مستقبل میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔اس گاؤں میں کچھ دوسرے رسم و رواج بھی ہیں۔
مثال کے طور پر یہاں کے لوگ اپنے گاؤں سے باہر شادی نہیں کرتے اور یہ لوگ چارپائی پر بھی نہیں سوتے ۔گاؤں والوں کا اہم پیشہ کاشتکاری ہے اور یہاں اناج کے علاوہ پیاز، مونگ پھلی اور مرچ کی کاشت بھی ہوتی ہے ۔ایّا کونڈا کو اس علاقے میں خرگوش کی کثیر آبادی کی وجہ سے پہلے ‘کنڈے لو پڑا’ (خرگوش کا گھر) کے نام سے جانا جاتا تھا۔