شائستہ ویز افغان پناہ گزین میں رہنے کے بعد امریکا منتقل ہوئی تھیں۔ اس کا خاندان سنہ 1987ء سے امریکا میں مقیم ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے شائستہ نے کہا کہ جب مجھے اندازہ ہوا کہ میں طیارہ اڑانے کی بے حد شوقین ہوں تو میں اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے اہداف متعین کیے۔ زیادہ سے زیادہ مطالعہ اور ورزش کو اپنا معمول بنایا۔ میں دنیا اور آسمان کو دنیا سے مختلف نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
اس کا کہنا ہے کہ انسان کے لیے اہم یہ ہے کہ وہ جس میں دلچسپی رکھتا ہو اس کے پیچھے لگا رہے۔
شائستہ نے انجینیرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ افغانستان کی کم عمر ترین دو شیزہ ہیں جو ہوا بازی کے میدان میں جوہر دکھا رہی ہے۔
بین الاقوامی سول ایو ایشن آرگنائزیشن کے تعاون سے شائستہ نے دنیا کے گرد انتہا چکر لگانے کا سفر شروع کیا ہے۔ اس کا اصل ہدف خواتین کی ہوابازی کے شعبے میں حوصلہ افزائی کرنا ہے کیونکہ دنیا بھر میں کمرشل جہازوں کی صرف تین سے پانچ فی صد ہوا باز خواتین ہیں، باقی مردوں کی اجارہ داری ہے۔
















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


