نئی دہلی: ہندوستانی ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ہنی مون کا اختتام نہایت ہی عجیب انداز میں
اُس وقت ہوا، جب ان کی اہلیہ ایئرپورٹ سے ‘غائب’ ہوگئیں۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ‘ڈرامہ’ نئی دہلی میں واقع اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رواں ہفتے پیر کی شام ہوا، جب ہمالیہ کے پہاڑوں میں ہنی مون سے واپسی پر مذکورہ شخص کی اہلیہ ایئرپورٹ کے واش روم گئیں اور پھر واپس نہیں آئیں۔
تاہم پولیس کے مطابق مذکورہ خاتون اپنے کسی دوست کے ساتھ فرار ہوئیں۔
دہلی پولیس کے مطابق جب خاتون آدھے گھنٹے تک واپس نہیں آئیں تو مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کی ‘گمشدگی’ کے حوالے سے رپورٹ کیا، جس پر ایئرپورٹ پر موجود سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کیا، جس میں دیکھا گیا کہ نیلے رنگ کی ساڑھی میں ملبوس خاتون واش روم میں داخل ہوئیں۔
فوٹیج کے مطابق جو خاتون واش روم سے باہر آئیں، انھوں نے برقع پہن رکھا تھا، تاہم شوہر کا اصرار تھا کہ یہ برقع پوش خاتون اسی کی بیوی ہے، کیونکہ اس کا قد اور جسامت اس کی بیوی جیسا ہی ہے۔
بعد ازاں ایئرپورٹ کے ڈومیسٹک ٹرمینل کے باہر لگے ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کو بھی اسکین کیا گیا۔
سی آئی ایس ایف عہدیدار کے مطابق مذکورہ فوٹیج میں برقع پوش خاتون کو ایئرپورٹ سے نکل کر باہر جاتے اور وی آئی پی پارکنگ کے قریب ایک نامعلوم شخص سے ملتے ہوئے دیکھا گیا، دونوں پھر ٹیکسی لین کی طرف گئے جہاں ان کے ساتھ ایک اور شخص بھی شامل ہوگیا اور بعدازاں یہ تینوں گاڑیوں اورلوگوں کے ہجوم کے دوران کہیں ‘غائب’ ہوگئے۔
مسافروں نے سی آئی ایس ایف کو بتایا کہ خاتون اپنا ہینڈ بیگ اور موبائل اپنے شوہر کے پاس ہی چھوڑ گئی تھی، جو واش روم کے باہرآدھے گھنٹے تک اس کا انتظار کرتا رہا۔
پولیس کو شبہ ہے کہ واش روم میں خاتون کی کوئی ساتھی بھی موجود ہوگی، جس نے اسے برقع فراہم کیا، ان کا مزید کہنا تھا، ‘وہ جان بوجھ کر اپنا موبائل فون چھوڑ گئی ہوں گی، تاکہ انھیں ٹریس نہ کیا جاسکے’۔
مذکورہ شخص واقعے کی رپورٹ درج کرائے بغیر جلد ہی ایئرپورٹ سے روانہ ہوگیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ خاتون اپنی مرضی سے گئیں لہذا یہ بھی امکان ہے کہ وہ اپنے کسی دوست یا محبوب کے ساتھ فرار ہوئیں، تاہم پولیس ذرائع کے مطابق ‘یہ صرف ایک قیاس آرائی ہے، لیکن چونکہ اس کا مقدمہ درج نہیں کروایا گیا، یہ معاملہ ہمارے لیے اب ختم ہوچکا ہے۔’
پولیس ذرائع کے مطابق ابتداء میں سی آئی ایس ایف نے اغواء کا خدشہ ظاہر کیا تھا، جس کا مطلب ملک کے سب سے بڑے ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کی کمی تصور کیا جاسکتا تھا۔

















