قندوز کی صوبائی کونسل کے ایک رکن مولوی عبداللہ نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ ’مولوی گجر‘ نامی مدرسے پر اس حملے کے نتیجے میں 50 سے 60 تک طالبان مارے گئے ہیں۔
دو سال قبل افغان فورسز کی بھاری نفری قندوز صوبے میں افغان طالبان کے زیراثر علاقوں میں تعینات کی گئی تھی جس کے بعد سے طالبان اور سیکورٹی فورسز میں خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
Pages: 1 2



















