ان کے اس رویہ سے دلت سماج کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے ۔وہ یہ صابن دے کر مسٹر یوگی سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے من کو صاف کریں ۔مگردوسری طرف پولیس نے ایسے کسی واقعہ سے انکار کیا ہے ۔پولیس نے گجرات سے آئے لوگوں کے بارے میں کوئی معلومات ہونے سے بھی انکار کردیا۔
دلت حامی تنظیموں کو بضد دیکھ کر پولیس نے ان سے کہا کہ ان کا ایجننڈا صرف بات چیت کرنا نہیں ہے ۔رپورٹ کے مطابق کچھ لوگ دارالحکومت کے چوک علاقے میں چھپ کر بیٹھے تھے جنہیں پولیس نے روک لیا۔پولیس سپرنٹنڈنٹ وکاس چندر ترپاٹھی نے بتایا کہ یہ لوگ پریس کلب میں بات چیت کے بہانے جمع ہوکر وزیراعلی کی رہائش گاہ کی سمت کوچ کرنے والے تھے ،
جسے وقت پر روک لیا گیا۔دلت حامی تنظیموں کے ذریعہ پریس کلب خالی نہ کرنے پر پولیس نے آٹھ لوگوں کو نقض امن کے پیش نظر گرفتار کرکے پولیس لائن بھیج دیا۔گرفتار لوگوں میں خاص طورپر ایس آر داراپوری،رمیش چندر دکشت،آشیش اوستھی اور پی سی کریل شامل تھے ۔گرفتاری کی مخالفت میں تنظیم کے لوگوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔اس موقع پر مسٹر دکشت نے دلت حامی تنظیموں کی جھانسی میں ہوئی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومت کا دلت مخالف رویہ منظور نہیں ہے ۔


















