مقتول کے بیٹے محمد صادق نے بتایا کہ ملزمین کی گرفتاری نہ ہونے سے گاؤں والوں میں غصہ ہے جس سے انہوں نے اس بار عید سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی خاص بات یہ ہے کہ گاؤں والوں نے گاؤں کے باہر بینر لگایا ہے جس میں لکھا ہے کہ اس گاؤں میں کوئی بھی لیڈر داخل نہیں ہوگا اور نہ ہی قتل کے سلسلے میں کسی طرح کی سیاست ہونی چاہئے۔
کانپور سے ملی اطلاع کے مطابق عید گاہ پر صبح سے ہی نمازيوں کا پہنچنا شروع ہو گیا تھا۔ شہر امام نے لوگوں کو عید کی نماز ادا پڑھائی اور بھائی چارہ اور مضبوط ہونے کی دعا کی۔
اجودھیا میں بھی دھوم دھام سے عید منائی گئی۔ عید گاہ پر نماز ادا کرنے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے گلے ملے۔ بچوں نے کھلونے خریدے اور چاٹ پكوڑيا بھی خوب كھائي۔ عيدگاهوں کے پاس سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے پنڈال لگا رکھے تھے جس میں وہ نمازیوں سے مل رہے تھے۔
امبیڈكرنگر، جونپور، وارانسی، بھدوہی، بریلی، مرادآباد، مظفرنگر، اٹاوہ اور متھرا سمیت ریاست کے دیگر حصوں سے بھی خوشگوار ماحول میں عید منائی گئی۔ کہیں سے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ سیکورٹی کے وسیع انتظام کے درمیان لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی کومبارکبادی دی۔
















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


