حکومت کے ذریعہ 18اکتوبر کو کئے گزٹ نوٹی فکیشن کے مطابق 2017-18کے لئے پالیسی کے تحت اہل اعلان کئے گئے کسانوں کو صرف دس آری رقبہ کے لئے ہی لائسنس ملیں گے ۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ ملک میں افیون کی پیداوار کا رقبہ تقریباََ چالیس فیصد کم ہوجائے گا۔اس پالیسی کے ذریعہ ملک میں پہلی بار لائسنس کی اہلیت کے لئے مارفن کی اوسط پیداوار کو بنیاد بنایا گیا ہے ۔
گزشتہ برس تک فی ہیکٹے ئر افیون کی اوسط پیداوار کی بنیاد پر لائسنس دے ئے جاتے تھے ۔اہلیت کی بنیاد تبدیل ہوجانے سے کئی کسان متاثر ہوں گے ۔حکومت کے پاس افیون کا 550ٹن سے بھی زیادہ اسٹاک پڑا ہے اور برآمد اوردوا بنانے کے لئے سالانہ 225ٹن سے زیادہ افیون کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اس لئے یہ متوقع تھا کہ حکومت پالیسی میں تبدیلی کرکے افیون کا رقبہ کم کرے گی۔


















