از مسعود رضوی
کل دلّی کی عام آدمی پارٹی سرکار نے اپنا پہلا بجٹ پیش کر دیا اور اسکا ایک خاص نام بھی رکھ دیا ’سوراج بجٹ‘ ۔ یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ ہر سرکار ہر سال اپنا ایک بجٹ پیش کرتی ہے ۔ سہل زبان میں کہیں تو یہ آنے والے سال کے لئے سرکار کی آمد خرچ، قرض و قرض ادائےگی کا تخمینہ ہوتا ہے۔ بجٹ بنانا اس لحاظ سے ہر سرکار کے لئے عام سی بات ہے۔ اور عام طور پر ہمارے ملک کا ایک اوسط شہری بجٹ کی تفصیلا ت پر ا پنا دماغ بھی نہیں کھپانا چاہتا ۔ لوگ یہ مان لیتے ہیں کہ بجٹ کی فکر تو صرف سرمایہ دار اور کاروباری لوگ ہی کرتے ہیں۔مگر حقیقت یہ نہیں ہے ۔ بجٹ میں سرکار نے کس مد کے لئے خرچ کا کتنا حصہ الگ کیا ہے اور اپنی محصولات کہاں سے حاصل کرے گی یہ اس بات کا آینہ دار ہوتا ہے کہ سرکار سماج کے
کس طبقہ کو ترجیح دے رہی ہے اور مساوی بلکہ منصفانہ ترقی کے لئے اس کا کیا ہے۔
طبقوں کی بات کریں تو آج تک ہم دیکھتے آئے ہیں کہ ہندوستان میں سرکاریں کسی نہ کسی شکل میں عام انسانوں کو مذہب اور برادریوں کی بنیاد پر تقسیم کرتی آئی ہیں ۔ لہٰذا انکے بجٹ میں بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا رہا ہے کہ کسی پچھڑی برادری یا کسی اقلیتی برادری کو جذباتی طور پر کوئی جھنجھنا تھما دیا جائے اور ہر روز یہ بتاتے رہا جائے کہ ہم نے اس برادری کی بھلائی کے لئے یہ یہ کیا۔ایسا اقلیتی اور پچھڑی برادریوں کے ساتھ ہی نہیں کیا جاتا بلکہ کچھ اور ایسے خاص طبقوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جنکے جذباتی استحصال سے
سرکار کو فایدہ پہونچنے کی امید ہو مثلاً طلاب۔
یہ بھی سونچنے کی بات ہے کہ کیا سرکاری بجٹ کا مہنگائی اور روزگار کے مواقعہ پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں ۔ یقیناً پڑتا ہے۔ مرکزی سرکار کے بجٹ کا تو بہت زیادہ مگر صوبائی سرکار کے بجٹوں کا بھی۔ آپ کو پتا ہوگا کہ اپنے ملک میں گھاٹے کا بجٹ بنا ےا جاتا ہے۔ گھاٹے کا بجٹ یعنی ایک ایسا بجٹ جس میں خرچ زیادہ کیا گیا ہو اور آمد کم ہو۔ آخر یہ گھاٹا سرکار کہاں سے پورا کرتی ہے؟ قرض لے کر اور مرکزی سرکار اکثر کرنسی نوٹ چھاپ کر (یہ متبادل ،صوبائی سرکا رکو میسر نہیں ہے)۔ آخر سرکار خرچ زیادہ کیوں کرتی ہے؟ کیا اپنی نا اہلی کی وجہہ سے۔ جی نہیں ضروری نہیں۔ عام طور پر ۹۲۹۱ سے شروع ہونے والی عظیم عالمی مندی سے نپٹنے کے لئے معاشیات کے ماہر ترین افراد میں سے ایک جان مےنارڈ کینز کی تھیوری کے سر اس طرز عمل کا سہرا باندھا جاتا ہے۔ کینز صاحب کا کہنا تھا کہ مندی سے نپٹنے اور روزگار کے مواقہ کی فراہمی کے لئے لازمی ہے کہ سرکاریں اپنے خرچ کو زیادہ کریں کیوں کہ سرکار کے خرچ سے بازار میں چیزوں کی مانگ میں اضافہ ہوگا اور اس وجہہ سے کاروباری لوگوں کو کاروبار کرنے اور پیدا وار بڑھانے کا حوصلہ بنے گا اور روزگار زیادہ پیدا
ہوگا اور ملک میں آمدنی جسے عام طور پر جی ڈی پی میں ناپتے ہیں بڑھے گی۔
مگر اسکی ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ سرکار اپنا خرچ ایسے مدوں میں کرے جس سے پیداوار کرنے میں عام آدمیوں کو سہولت ہو اور شہریوں کے وسایل بڑھ جایں نہ کہ محظ ایسے مدوں میں جو ایک بار خرچ ہو کر ختم ہو جایں۔ مثالاً سرکار اگر سرکاری لوگوں کی شان و شوکت کے اظہار جلسے جلوس کرنے، پارک بنانے مجسمہ لگانے، مندر اور عبادت گاہیں بنانے، دھارمک پاٹھشالاﺅں یا مدرسوں کی مدد کرنے، طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے وغیرہ میں کرے گی تو شہریوں کہ ہاتھ میں کرنسی تو آجایگی مگر اس سے خرید کرنے کے لئے بازار میں جنس نہیں ہو گی اور نتیجہ یہ ہو گا کہ صرف چیزوں کے دام بڑھ جائں گے۔ اسکے برخلاف اگر سرکار ایسے اقدام کرتی ہے جس سے پیداوار کرنا بھی سہل ہو جایے تو ایک طرف تو اسکی خرچ کی ہوئی کرنسی عام آدمیوں کے ہاتھوں میں آکر بازا ر میں چیزوں کی مانگ میں اضافہ کرے گی اور دوسری طرف اسکی پیدا کی ہوئی سہولتیں عام آدمیوں کو زیادہ سے زیادہ پیداوار بڑھانے میں مدد کریں گی۔ اسکے علاوہ سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ سرکار یہ دیکھے کہ دولت اور ثروت کچھ ہی لوگوں کے ہاتھوں میں رک نہ جائے بلکہ
اسکی مناسب تقسیم ہر عام آدمی تک ہو سکے۔
یہ ساری باتیں تھیوری ہیں۔ پریکٹیل کیا ہے۔ رفتہ رفتہ ہم لوگ ایسی سرکاریں بناتے چلے گئے جو سکریٹیریٹ کے اے سی کمروں میں بیٹھ کر ہر سال بڑی مستعدی سے بجٹ سازی کرتی رہی ہیں۔ ہر سرکار کا بجٹ کم و بیش یکساں ہوتا ہے۔ جس میں ہر کانسٹیچوینسی کی منہہ بھرائی کرنے کے لئے طرح طرح کی اسکیموں اور یوجناﺅں کا ذکر ہوتا ہے اور ایسے مدوں میں چند پیسے ڈال دئے جاتے ہیں جن سے اس برادری کہ ذی اثر لوگوں کو کچھ فائدہ پہونچے اور وہ اپنی برادری میں سرکار کا ڈھول پیٹتے پھریں۔باقی اسکیمیں کچھ اتنی پیچیدہ بنیں جس کو ایک عام آدمی سمجھ ہی نہ پائے اور کبھی کسی تو کبھی کسی اور بڑے یا چھوٹے ٹھیکہ دار کی جیبیں بھر کر اسسے منتری اور ’صاحب‘ حضرات کی دولتوں میں راتوں رات اضافے ہوتے رہیں۔یہ باتیں اب اتنی عام ہو چکی ہیں کہ مجھے شاید کوئی مثال دینے کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔
اس پس منظر میں کل یہ دیکھ کر حیرت ہونا لازمی تھا کہ دلّی میں عام آدمی کی سرکار کا بجٹ عام تو بالکل ہی نہیں تھا اور اسکے خاص نکات نظر انداز نہیں کیا جا سکتے۔ آئے دیکھیں کہ انکی عام سی باتوں میں خاص کیا کیا ہے:
سب سے پہلے تو یہ بڑی عجیب سی بات ہے اور اس ملک میں پہلا حادثہ جب بجٹ بنانے سے پہلے عام آدمیوں سے باقاعدہ تحریری اور رو برو مشورے انکے محلوں میں جا جا کر لئے گئے ہوں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہو کہ آخر عام آدمی اپنے پیسوں کو کن باتوں میں خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر سرکاریں ایسا ہی کرنے لگیں تو مثالاً اقلیتوں کو محظ جھنجھنے نہیں ملا کریں گے بلکہ انکی واقعی معاشی اور سماجی ترقی ہو سکے گی۔ آپ خود ہی غور کریں اگر کسی ایسے محلہ میں جہاں اقلیتی برادری کے زردوز یا بنکر رہتے ہیں ایسی میٹنگ سرکار خود آ کر کرے تو لوگ یقیناً زردوزوں کے لئے مناسب قرض کے انتظام، تیار مال کی فروخت کے لئے کسی ایسے نظام کے قیام جس میں بچولئے انہیں لوٹ نہ سکیں۔ محلہ میں لڑکیوں کے اسکول کے قیام وغیرہ کی باتیں ترجیح کے طور پردرج کرا سکیں گی۔ دوسری خاص بات یہ ہے کہ سرکار نے پیسے دکھاوے کی یوجناﺅں پر نہ لگا کر ایسے مدوں میں لگائے ہیں جن سے ہر عام آدمی کو فائدہ پہونچے مثالاً یہ بات بہت زیادہ قابل غور ہے کہ ایک طرف جب کہ مرکزی حکومت نے اپنے بجٹ میں تعلیم پر خرچے میں ۶۱ فیصد اور میڈیکل سہولیات پر خرچے میں ۵۱ فیصد کی کٹوتی کر دی ہے عام آدمی پارٹی نے اپنے بجٹ میں تعلیم پر ۶۰۱ فیصد اور میڈیکل سہولتوں پر ۵۴ فیصد خرچ بڑھا دیا ہے۔ وہ بھی ایسی اسکیموں کے ساتھ کہ محلہ محلہ اچھے سرکاری اسپتال موجود کرائے جا سکیں۔ ایسا تعلیمی نظام بنایا جا سکے جس سے بچے بارہویں کے بعد چاہیں تو تعلیم جاری رکھیں اور اگر روزگار چاہتے ہوں تو انکے پاس کوئی ایسی تکنیکی مہارت ہو جس سے انہیں جلد از جلد نوکری مل سکے۔ تعلیم اور صحت کے خرچے خرچ نہیں بلکہ بلکہ سرمایہ کاری کہے جانے چاہئے کیوں کہ اس سے عام آدمی کی پیدا واری صلاحیت بڑھتی ہے اور یہ، جسے اردو میں خیر جاریہ کہتے ہیں ، کا کام کرتی ہے۔ آج کے دور میں دلّی میں سرکاری اسکولوں میں سو بچوں پر ایک ٹیچر ہے۔ ظاہر ہے وہ کیا پڑھا پاتا ہوگا۔
عام آدمی پارٹی کے بجٹ میں بیس ہزار نئے ٹیچرز بھرتی کرنے کی بات کی گئی ہے جس سے ایک طرف تو اسکولوں کا معیارِ تعلیم بہتر ہوگا دوسری طرف بیس ہزار لوگوں کو فوری طور پر روزگار مل جائے گا۔ اسکے علاوہ ایک سال میں ۶۳۲ نئے اسکول کھولے جائں گے سبھی سرکاری اسکولوں کے ہر کلاس میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا کر تعلیم اور ٹیچروں کے کام کاج پر نظر رکھی جائے گی۔ اسکے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بڑھاوا، ہر ودھان سبھا میں انکی مرضی سے ہونے والے خرچ کے لئے ۰۲ کروڑ روپے، کڈنی کے مریضوں کو فری ڈائلیسس ، ۰۱ لاکھ تک کا تعلیمی قرض سرکار کی ضمانت پر ، ورکنگ ومن کے لئے ہاسٹل پبلک ٹرانسپورٹ میں جی پی آر ایس سسٹم کاروبار کے لئے غیر ضروری لائسنسوں میں کمی، وغیرہ ایسے اقدام شامل ہیں جنکی وجہہ سے اسے عام آدمی کا خاص بجٹ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔
مضمون نگار کا تعارف اور رابطہ کی تفصیل
ایم ایس سی (ایگریکلچر)، ایم بی اے(فائنانس)، یو جی سی نیٹ، سی اے آئی آئی بی(اول)
سابق منیجر پنجاب نیشنل بینک، رکن صوبائی کمیٹی برائے ۵۱ نکاتی پروگرام
و ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پلان فار مایئنارٹی کنسنٹریشن ڈسٹرکٹس(یو پی)
وزٹنگ فیکالٹی (فائنانشیل منیجمینٹ، اکاﺅنٹنگ و اکانامکس)
بانی مسعود رضوی کامرس کلاسز
Email: masoodrezvi@gmail.com Twitter: @RezviMasood




















