بے آباد مصنوعی سیارے، تباہ ہو جانے والے خلائی راکٹوں کی باقیات اور ایسے ہی بے کار ہو جانے والے لاکھوں چھوٹے چھوٹے اجسام نہ صرف خلائی جہازوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ اِن کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی یا ’ای ایس اے‘ کے اسپیس ڈبری آفس کے سربراہ ہولگر کریگ کا کہنا ہے،’’ مستقبل میں خلا میں اجسام کے بیچ ایسے ٹکراؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔‘‘
space debris
خلائی ملبے سے اب تک 250 دھماکے اور رکاوٹیں پیدا ہو چکی ہيں۔ ارد گرد ایسے 18000 بڑے ٹکڑے موجود ہیں جن کا سسٹم کے ذریعے پتہ لگایا جانا باقی ہے۔ تاہم خلا میں موجود چھوٹے حجم کے اجسام بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ خلائی ملبہ قریب 750،000 ایسے چھوٹے اجسام کی صورت میں بھی موجود ہے جن کا قطر ایک اور دس سینٹی میٹر کے درمیان ہے۔
ممکنہ طور پر 40،000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرنے والے یہ مختصر اجسام خلا میں اگر کسی اور جسم سے ٹکرا جائیں، تو ایک دستی بم پھٹنے جتنی فورس پیدا کر سکتے ہیں۔
Read More>>>>>




/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)













