چونکہ یہ مکمل طور پر تلف نہیں ہوتے لہٰذا پلاسٹک کے ذرات کے مٹی میں ملنے کی وجہ سے زمین کی زرخیزی اور فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
اور اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ذرات پانی کے بہاؤ میں شامل ہو کر نہروں، دریاؤں سے ہوتے ہوئے سمندر میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں مچھلیوں کی خوراک کاحصہ بن کر ان کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں، اور بعدازاں ان مچھلیوں کو کھانے کے سبب یہ انسانی جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگراوگزو بیگز کے استعمال کو ترک نہیں کیا گیا تو پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات کو نقصان پہنچے گا خاص کر یورپی ممالک کو کی جانے والی برآمدات اس سے متاثر ہوں گی جہاں ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔
















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


