جاپان کے شہر اوساکا میں واقع انڈونیشین قونصلیٹ کا کہنا تھا کہ 18 سالہ لڑکے کو پاناما کے جھنڈے والی کشتی سے 31 اگست کو اپنے اصل مقام سے ایک ہزار 200 میل کے فاصلے سے بچایا گیا تھا۔
بندرگاہ کی کوئی واضح حدود نہیں، اس لیے ماہی گیروں کی کشتیاں ایک دوسرے سے کئی میل کے فاصلے پر موجود ہوتی ہیں۔
نوجوان کا کہنا تھا کہ میں کشتی پر ایک ماہ 19 دن رہا، میری غذا کا ذخیرہ ایک ہفتے میں ختم ہوگیا تھا، جب کئی روز تک بارش نہ ہوئی تو میں اپنے کپڑے سمندر کے پانی میں گیلا کرکے انہیں نچوڑتا اور پانی پیتا تھا۔
الدی ناول ادیلانگ نے بتایا کہ کشتیوں کو رسی کے ذریعے لنگرانداز کیا جاتا ہے لیکن مضبوط رگڑ کی وجہ سے رسی ٹوٹ جاتی ہے۔
نوجوان نے مزید کہا کہ ’ میں سوچتا تھا کہ شاید اپنے والدین سے کبھی نہ مل سکوں، اس لیے میں روزانہ واپس لوٹنے کے لیے دعا کرتا تھا۔‘
اوساکا قونصلیٹ نے اپنے بیان میں بتایا کہ می ای ایپریگیو جنہوں نے ادیلانگ کو بچایا، انہوں نے ہی اوساکا میں موجود انڈونیشین مشن سے رابطہ کیا تھا جہاں سے اسے 6 ستمبر کو اوساکا روانہ کیا گیا اور 8 ستمبر کو نوجوان انڈونیشیا پہنچا تھا۔
Pages: 1 2
















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


