قابل غور ہے کہ 1996 میں بے نقاب ہوئے چارہ گھوٹالے کے پہلے کیس آرسی 20 اے / 96 میں مسٹر یادو کو 20 ستمبر 2013 کورانچی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔
یہ معاملہ چائباسہ ٹریژری سے 37.70 کروڑ روپے کی غیر قانونی نکاسی کا ہے ۔ گھوٹالہ کے دوسرے کیس آرسی 64 اے / 96 میں مسٹر یادو کو 23 دسمبر 2017 کو مجرم قرار دیا گیا۔چارہ گھوٹالے کا یہ معاملہ سال 1990 سے 1994 کے درمیان دیوگھر ٹریژری سے 89 لاکھ 27 ہزار روپے کی نکاسی کا ہے ، جوغیر قانونی طریقے سے جانوروں کے چارے کے نام پر نکاسی سے متعلق ہے ۔ مسٹر یادو چارہ گھوٹالہ کے تیسرے کیس 68 اے / 96 میں 24 جنوری 2018 کو مجرم قرار دیئے گئے ۔ یہ معاملہ بھی چائباسہ ٹریژری سے 33 کروڑ 62 لاکھ روپے کی غیر قانونی نکاسی سے متعلق ہے ۔















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


