انہوں نے نیاشوشہ چھوڑتے ہوئے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ سنٹرل مدرسہ بورڈ کے منصوبے کااحیاءہوناچاہیے، مدارس کا اس سے الحاق پوری طرح سے رضاکارانہ ہوناچاہیے اور مدارس کو اپنے نصاب میں عصری علوم کوبھی جگہ دینی چاہیے۔ ایسا ہو جانے پر حکومت کو مدارس کی ڈگریاں تسلیم کرنی چاہئیں تاکہ مدارس کے فارغین بھی دنیا کے مختلف امکانات سے مستفیدہوسکیں۔
ایسے نازک حالات میں مدرسہ بورڈکاایک بارپھرشوشہ چھوڑناآخرکیامعنیٰ رکھتاہے۔جب کہ خیرکی کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے ۔لیکن یہ واضح ہوکہ جولوگ مرکزی مدرسہ بورڈکی مخالفت کرتے رہے ہیں،آج ان کی باتوں میں تقویت نظرآتی ہے اوریوپی کے حالا ت اورمرکزی حکومت کے موجودہ رویے کودیکھتے ہوئے کہنامشکل نہیں ہے کہ تمام مدارس کے الحاق کی صورت میں درس نظامی کے مدارس کابھی وہی حشرہونے ہوجائے گاجویوپی میں بھگواکرن کی شکل میں سامنے آرہاہے .