افغانستان کے شہر قندوز میں مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی نماز کے دوران ایک خود کش حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر میں سید آباد مسجد میں لاشیں اور ملبہ ندیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مسجد مقامی شیعہ برادری کی ہے۔
دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ شدت پسند گروہ جن میں مقامی دولتِ اسلامیہ کا گروپ بھی شامل ہے شیعہ برادری کو پہلے بھی نشانہ بناتے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے خودکش بمبار نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑایا جب لوگ جمعے کی نماز کے لیے مسجد میں اکٹھے تھے۔
مقامی سکیورٹی اہلکاروں نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ حملے کے وقت 300 سے زیادہ افراد مسجد میں موجود تھے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اموات کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان نے قندوز میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کی حکومت اور عوام اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہیں۔‘
پاکستان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم ان خاندانوں سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں جنھوں نے اپنے پیارے کھوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ زخمی ہونے والے جلد صحتیاب ہوں گے۔‘
دولتِ اسلامیہ خراسان، جو کہ دولتِ اسلامیہ کی ایک مقامی شاخ ہے، طالبان کے بہت زیادہ خلاف ہے، اور اس نے حال ہی میں کئی بم حملے کیے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ملک کے مشرقی حصے میں کیے گئے ہیں۔
مقامی تاجر زلمئی الوکزئی جو دھماکے کے فوراً بعد ہسپتال پہنچے تھے تاکہ یہ پتہ کر سکیں کہ زخمیوں کو خون کے عطیات تو نہیں چاہییں، بتاتے ہیں کہ وہاں صورتِ حال بہت ابتر تھی۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایمبولینسیں جائے وقوع کی طرف جا رہی تھیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو لایا جا سکے۔‘


















