دو جنوری دو ہزار سولہ کو سعودی عرب میں سرکردہ عالم دین آیت اللہ نمر باقر النمر کو حکمران آل سعود پر تنقید کے جرم میں سزائے موت دے کر شہید کر دیا گیا تھا جس کی ساری دنیا کے مسلمانوں نے شدید مذمت کی تھی۔
رائے عامہ کے وسیع اعتراضات اور مظاہروں کے درمیان سرزمین حجاز کے ایک عظیم عالم دین کو انسانی اور اسلامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں سزائے موت دے دی گئی تھی لیکن مغربی ممالک کی حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نیز خطے کے ممالک اور عالمی اداروں کی جانب سے اس ہولناک سانحے پر خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
آیت اللہ نمر کی سزائے موت پرعملدرآمد کو سعودی عرب میں شاہ سلمان کے برسر اقتدار آنے کے بعد مخالفین کو سرکوب کرنے کی دیرینہ پالیسی اور انسانی حقوق کی ابتر صورت حال کا ثبوت قرار دیا جا سکتا ہے۔




















