پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کم از کم چھ دہشت گردانہ حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں تقریباً150افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے ۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے ۔ اس دوران حکومت نے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے ، دوسری طرف پوری دنیا نے ان حملوں کی شدید ترین مذمت کی ہے ۔
فرانسیسی صدر فرانزواں ہولاند نے ٹیلی ویزن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اتحاد اور سکون برقرار رکھنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے اور سرحدوں کو سیل کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے مقامی پولیس کی مدد کے لئے فوج کو بھی تیار رہنے کا حکم دیا۔ لوگوں کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے کے لئے کہا گیا ہے ۔اس دوران حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لئے تقریباًً1500 فوجیوں کو شہر کے مختلف حصوں میں تعینات کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ حملہ تھا او رہمیں معلوم ہے کہ دہشت گرد کہا ں سے آئے تھے ۔ یہ ہمارے لئے دکھ کی گھڑی ہے ۔ اس حملے میں جن لوگوں نے اپنی جان گنوائی ہے زخمی ہوئے ہیں ان کے رشتہ داروں کے ساتھ اظہار یگانگت کے لئے ہمیں اتحاد اور سکون بنائے رکھنا چاہئے ، ہمیں سیکورٹی فورسیز پر بھروسہ رکھنا چاہئے کیوں کہ وہ کسی بھی دہشت گردانہ حملے سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چھ مختلف مقامات پر دھماکے او ر فائرنگ کے واقعات پیش آئے ۔ گوکہ پولیس نے 120افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم غیر مصدقہ ذرائع اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد150ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے ۔
پہلا واقعہ پیرس کے مشرقی حصے میں بٹاکلان کنسرٹ ہال میں پیش آیا جہاں حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے تقریباًً 100 افراد کو ہلاک کردیا اور سیکٹروں فرانسیسی شہریوں کو یرغمال بنایا۔کنسرٹ ہال میں 1500 سے زائد افراد موجود تھے جبکہ ہال میں امریکی بینڈ ‘ایگلز آف ڈیتھ میٹل’ (Eagles of Death Metal) کا شو ہو رہا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ کنسرٹ ہال میں یرغمال بنائے جانے والے شہریوں کو بازیاب کرانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی۔پولیس کی آمد کے ساتھ ہی حملہ آوروں نے کنسرٹ ہال میں موجود افراد پر فائرنگ شروع کر دی تھی۔
فرانسیسی پولیس کے مطابق شہریوں کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے ریسکیو آپریشن کے دوران ہال میں مسلح افراد نے فائرنگ کی جس سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں 4 حملہ آور بھی ہلاک ہوئے ۔
ان میں سے 3 حملہ آوروں نے خود کش جیکٹس کے ذریعے دھماکے کیے جبکہ ایک کو پولیس نے فائرنگ سے نشانہ بنایا۔
دوسرا نشانہ پیرس کے شمالی حصے میں قائم فٹبال اسٹیڈیم کو بنایا گیا۔فرانس کے نیشنل اسٹیڈیم کے باہر 3 زور دار دھماکے سنے گئے ، جس وقت دھماکے ہوئے اس وقت فرانس کے صدر فرانسو اولاندے اپنی کابینہ کے ہمراہ فرانس اور جرمنی کا دوستانہ میچ دیکھ رہے تھے ۔
خود کش دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔تاہم سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسٹیڈیم کے باہر 3 بم دھماکے ہوئے جن میں سے ایک مبینہ طور پر خودکش تھا۔
پولیس نے بتایا کہ جس وقت اسٹیڈیم کے باہر دھماکے ہوئے یہاں فرانس اور جرمنی کی فٹبال ٹیموں کے درمیان دوستانہ میچ جاری تھا،فرانسیسی صدر فرانسو اولاندے جو اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے موجود تھے ، جنھیں دھماکوں کے فوری بعد اسٹیڈیم سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔بعد ازاں حکام نے اسٹیڈیم کو بھی شائقین سے خالی کروا لیا۔
حملوں کے بعد پیرس میں کرفیو نافذ کر کے 1500 فوجی اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے ۔ دوسری طرف فرانس میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ملک کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے ۔یہ ایمرجنسی ملک میں 70 سال بعد دوبارہ لگائی گئی ہے ۔
تیسرا حملہ پیرس کے مشرقی حصے میں قائم ایک ہوٹل کے قریب ہوا۔حملہ آوروں نے جس ہوٹل کو نشانہ بنایا وہ جاپانی کھانوں کے لیے مشہور تھا۔فائرنگ کے نتیجے میں ہوٹل کے قریب 18 افراد ہلاک ہوئے ۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا نشانہ جاپانی ہوٹل تھا جبکہ ہوٹل کے قریب 2 سے 3 منٹ تک فائرنگ کی گئی۔حملے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر ہوٹل جانے والے تمام راستوں کو بند کرکے اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا۔
پیرس کے شمالی حصے میں کمبوڈیا کے ایک ریسٹورنٹ کے قریب بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ ریسٹورنٹ کے باہر 30 سیکنڈز تک فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس وقت فائرنگ شروع ہوئی تمام افراد زمین پر لیٹ گئے ، تاہم کچھ دیر بعد فائرنگ کی آوازیں آنا بند ہو گئیں۔
پیرس میں نشانہ بنائے گئے کنسرٹ ہال بٹکلان سے کچھ فاصلے پر واقع ایک پیزا سینٹر کے قریب بھی فائرنگ کی گئی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آوروں کے پاس جدید اسلحہ تھا جس سے وہ فائرنگ کر رہے تھے ۔
فائرنگ سے 5 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ۔
فرانس کے عدالتی ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق کنسرٹ ہال سے متصل بلیورڈ والٹائر میں بھی ایک دھماکا ہوا۔دھماکا مبینہ طور پر ایک حملہ آور کی خود کش جیکٹ پھٹنے سے ہوا،تاہم اس کے نتیجے میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی فوری اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔
پیرس حملوں کے بعد صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے فرانس کی وزارت داخلہ کے دفتر میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں فرانس کے صدر، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ موجود تھے ۔سرکاری بیان کے مطابق فرانسیسی صدر نے ترکی میں ہونے والی جی 20 سربراہی کانفرنس میں اپنی شرکت کو ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔فرانس کے کا¶نٹر ٹیرارزم پراسیکیوٹر کے مطابق پیرس میں پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ایک سیکورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ ‘میں صرف اتنا ہی بتا سکتا ہوں کہ یہ چارلی ہیبڈو سے بڑا حملہ ہے .’
خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں پیرس ہی میں شدت پسندوں کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر چارلی ہیبڈو نامی میگزین کے دفتر اور ایک یہودی سپرمارکیٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا، ان واقعات میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔فرانسیسی پولیس نے مذکورہ حملے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے متعدد حملہ آوروں کو ہلاک اور گرفتار کرلیا تھا۔
ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ ماہ میں داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے فرانس سے 500 سے زائد افراد نے شام اور عراق کا سفر کیا ہے ، جبکہ حال ہی میں ان میں سے 250 افراد فرانس واپس لوٹے ہیں اور مزید 750 افراد داعش میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔
پیرس حملوں کے بعد امریکی پولیس نے نیویارک شہر میں ہائی الرٹ جاری کردیا، جبکہ بیلجیئم حکام نے اعلان کیا ہے کہ فرانس سے منسلک سرحد پر سرویلنس بڑھا دی گئی ہے ۔
پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما، روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بانکی مون سمیت دیگر ممالک کے سربراہان نے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ان لیڈروں نے کہا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں فرانسیسی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


