انہوں نے کہا کہ ’وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے جب اس معاملے پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ویب سائٹس بلاک کی گئیں‘۔
اس حوالے سے وائس آف امریکا کی پاکستان اور افغانستان کے لیے بیورو چیف عائشہ تنظیم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ ’پاکستان پشتون قوم پرست تحریک #پی ٹی ایم، کی کوریج پر سختی کرتا ہے اور وی او اے کی اردو اور دیوا ویب سائٹس بلاک کردی گئیں‘۔
دوسری جانب وائس آف امریکا کی انگریزی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی انتظامیہ پشتون قوم پرست تحریک کی میڈیا کوریج کا جائزہ لے رہی، وائس آف امریکا کی ویب سائٹس بلاک کر رہی اور ان کی مقامی ریلیوں کو کور کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔
خبر میں کہا گیا کہ تقریباً ایک ہفتے قبل پاکستان نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو وی او اے کی اردو زبان کی سروس والی ویب سائٹ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔