جاپان میں میاگی کے ساحل پر 7.2 شدت کا زلزلہ آنے کے بعد حکام نے سونامی کی وارننگ جاری کردی ہے۔جاپانی میڈیا کے مطابق ززلے اور سونامی کی وارننگ جاری کیے جانے کے کچھ دیر بعد ساحل سے ایک میٹر بلند لہریں ٹکرائیں۔

جاپان کی میٹرولوجیکل ایجنسی کے مطابق میاگی کے علاقے میں شام 6 بجے آنے والے زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت ٹوکیو میں بھی محسوس کیے گئے اور اس زلزلے کی گہرائی 60 کلومیٹر تھی۔
ابھی تک زلزلے سے سی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
An earthquake struck northeastern Japan on Saturday, hitting areas devastated by the 2011 disaster, generating a tsunami of 1 meter and shaking buildings.https://t.co/5B7iQQxvPu#TodaysNews #Internationalnews #Japan #earthquake
— Today's News (@TodaysNewsOffic) March 20, 2021
جاپانی میڈیا نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سونامی میں ایک میٹر سے زائد اونچی لہریں بلند ہو سکتی ہیں اور عوام ساحل یا اس کے قریب جانے سے گریز کریں۔
Read Also:
ہیری اور میگھن ایک بار پھر انکشافات کرسکتے ہیں، رپورٹس
یمنی فورسز کا ریاض میں سعودی تیل کی کمپنی آرامکو پر 6 ڈرون طیاروں سے حملہ
حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سمندر یا ساحل کے قریب جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جو لوگ سمندر میں موجود ہیں وہ فوراً واپس آ جائیں اور ساحل ے دور چلے جائیں، لہریں بہت تیز ہوں گی لہٰذا وارننگ واپس لیے جانے تک سمندر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔
Skyscrapers in Tokyo and Japan are designed to sway during earthquakes.
Watch this: https://t.co/qW6LwMPFG4
— Paul Fox (@PaulFox50854324) March 20, 2021
بعدازاں سونامی کی اس وارننگ کی تنزلی کردی گئی جبکہ امریکی سونامی وارننگ سسٹم نے کسی بھی قسم کی سونامی کے خطرے کو رد کردیا ہے۔
ویب سائٹ ڈان کے مطابق سونامی کی وارننگ جاری ہونے کے بد قریب ہی واقع رہائشی علاقے واٹری سے تقریباً 7ہزار افراد کو احتیاطاً محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بڑے نقصان کی اطالاع تو موصول نہیں ہوئی البتہ دو بوڑھی خواتین معمولی زخمی ہو گئیں۔
واقعے کے بعد کم از کم 200 گھر اور دجانیں بجلی سے محروم ہو گئیں جبکہ مقامی ریل سروس کو بھی وقتی طور پر بند کردیا گیا۔
آج آنے والے زلزلے کا مرکز 2011 میں آنے والے زلزلے سے بہت قریب تھا جس کی وجہ سے حکومتی اور نجی اداروں نے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھامات اٹھاما شروع کردیے تھے۔
ایک دہائی قبل آنے والے اس زلزلے میں جاپان کو ناصرف برا جانی نقصان ہواتھا بلکہ اس زلزلے کے نتیجے میں جاپان کی نیوکلیئر ری ایکٹرز کو بھی بہت نقصان پہنچا تھا۔
2011 میں آنے والے زلزلے میں کم از کم 20 افراد ہلاک یا لاپتہ اور اس موقع پر 30 فٹ تک اونچی لہریں بلند ہوئی تھیں۔
گزشتہ ماہ بھی جاپان میں ایک طاقتور زلزلہ آیا تھا جسے 2011 کے زلزلے کا آفٹر شاکس قرار دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ جاپان میں اکثر زلزلے کے جھٹکے آتے رہتے ہیں کیونکہ یہ خطے میں زلزلے کی پٹی پر واقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ جاپان میں تعمیرات کے لیے سخت معیارات لاگو ہیں تاکہ عمارت زلزلے کے جھٹکے برداشت کر سکے۔














/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


