آئی جی صلاح الدین محسود نے بتایا کہ اس حملے میں چھ طلبہ، ایک چوکیدار اور چند سویلین ہلاک ہوئے ہیں، جن کی شناخت کی جا رہی ہے۔
‘دہشت گردوں کے پاس سے بھاری تعداد میں اسلحہ ملا ہے، جس میں کلاشن کوفیں، ہینڈ گرینیڈ اور خودکش جیکٹیں شامل ہیں۔’
حملے کے مقام کے قریب واقع خیبر ٹیچنگ ہاسپیٹل کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حمید نے بتایا کہ وہاں تین لاشیں لائی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ طلبہ کی لاشیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس ہسپتال میں 14 زخمی بھی لائے گئے ہیں۔