کئی گھنٹ کی بحث کے بعد با حجاب خواتین کو لکھنو زو کے انر جانے کی اجازت دی گئی مگر آخر تک اس تعصب کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ایک صحافی نے جب ادارے کے ڈائریکٹر سے سوال کیا تو انہون نے اس واقعہ کی لیپا پوتی کرتے ہوئے کہا کہ کچھ تکنیکی وجوہ کی بنا پر ایسا کیا گیا تھا۔بہرحال انہوں نے مبینہ تکنیکی وجہ کو بتانے سے گریز کیا۔

عینی شاہدین کا کہان ہے کہ مدرسہ کی ان طالبات کی“ خطا“ صرف یہ تھی کہ وہ با حجاب تھیں اور ان پر عجائب گھر انتظامیہ کو کسی طرح کا شک تھا۔لیکن عام طور سے اس بہانے پر کسی کو یقین نہیں آیا،کافی دیر کی جد و جہد کے بعد سیاہ برقہ پوش خواتین کو “بھگوا دھاری ذہنیت والے ملازمین نے اندر جانے کی اجازت دی۔














/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


