اللہ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ “تحقیق اللہ زمین میں فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا”۔ نبی کریم علیہ الصلات و السلام کے مبارک ارشاد کا مفہوم ہے کہ “یقینا تم میں پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان جب کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے تھے۔ اللہ کی قسم اگر فاطمہ بن محمد بھی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے”۔


















