واضح رہے کہ پشاور میں تشدد کی تاریخ رہی ہے اوریہ کئی دہشت گردانہ حملے جھیل چکا ہے۔ 10 جولائی 2018 کو ایک ریلی کے دوران ہوئے خودکش حملے میں 22 لوگ مارے گئے تھے، ان میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بھی شامل تھے۔ وہیں سال 2014 میں پشاورواقع آرمی اسکول میں طالبانی دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا، اس میں 149 لوگ مارے گئے تھے، جن میں سے 132 اسکولی طلبا تھے۔