انھوں نے جمعے کی رات جنیوا میں ایک اجلاس میں غوطہ شرقی میں دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی کارروائی کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے کئے جانے والے منفی پروپیگنڈے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن راہداری کے قریب دہشت گردوں کے نشانے باز تعینات ہو گئے ہیں جو باہر نکلنے والے عام شہریوں کو اپنی فائرنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے نمائندے محسن قانعی نے کہا کہ گذشتہ سات برسوں میں ان دہشت گرد گروہوں کے حملوں اور جارحیت سے کہ جنھیں مغربی ملکوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل رہی ہے، شام میں بدامنی و عدم استحکام اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور یہ مسئلہ عالمی امن و سلامتی کے لئے چیلنج بن گیا ہے۔ ادھر روس کی سلامتی کونسل کے بین الاقوامی امور کے سیکریٹری الیگزنڈر وینکوف نے شام میں دہشت گردی کے خلاف مہم میں امریکہ کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں التنف اڈے میں تعینات امریکی فوجی اپنے قرب و جوار میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کر رہے ہیں جو ناقابل فہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوجی التنف اور رقبان میں اقوام متحدہ کی انسان دوستانہ امداد کے حامل ٹرکوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اور امریکہ کے یہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف مہم میں اس کے دوہرے معیار کو ثابت کرتے ہیں۔