نئی دہلی ، یکم فروری؛حکومت نے کورونا کےوبا کی وجہ سے شدید نقصانات کا سامنا کرنے وای ریلوے کو ابارنے کے لئے ریکارڈ ایک لاکھ 10 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی ہے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں مالی سال 2021-22 کے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے لئے ریکارڈ ایک لاکھ 10 ہزار 55 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے۔جس میں سے ایک لاکھ سات ہزار 100 کروڑ کی تجویز صرف سرمایہ جاتی اخراجات ہیں۔

محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے لئے نیشنل ریل اسکیم ۔2030 تیار کی گئی ہے ، جس کا مقصد 2030 تک مستقبل کے لئے ریلوے کا نظام تیار کرنا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=LjT5PlnUkgo
انہوں نے کہا کہ حکومت ‘گرین ریلوے’ منصوبے اور ریلوے سیفٹی فنڈ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے چنئی میٹرو ریل منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لئے 63 ہزار کروڑ روپے کی تجویز پیش کی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے علاوہ ، میٹرو ، سٹی بس سروس میں اضافہ پر توجہ دی جائے گی۔ اس پر 19 ہزار کروڑ لاگت آئے گی۔ بجٹ کی تجویز میں کوچی ، بنگلورو ، چنئی ، ناگپور اور ناسک میں میٹرو منصوبوں میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے۔
محترمہ رمن نے 2021-22 میں پی پی پی موڈ میں ایسٹرن ڈیڈیٹیٹڈ فریٹ کوریڈور کے سون نگر گوموسیکشن (263.7) کلومیٹر شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا ہے کہ 2020,21 کا بجٹ گاؤں اور کسانوں کو مرکز میں رکھ کر بنایا گیا ہے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے بجٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی صورتحال میں پیش کیا گیا ہے جس میں ترقی کا اعتماد بھی موجود ہے۔ ہم نے ترقی کے نئے مواقع تلاش کرنے، نوجوانوں کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھولنے ، انسانی وسائل کو نئی بلندیوں پر لے جانے ، نئے شعبوں میں بنیادی ڈھانچوں کی ترقی ، ٹیکنالوجی کو اپنانے اور نئی اصلاحات لانے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں زراعت کے شعبہ پر زور دیا گیا ہے اور اس سے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ یہ بجٹ افراد ، سرمایہ کاروں ، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بہت سی مثبت تبدیلیاں لائیں گی۔ اس سے لوگوں کی ترقی ہوگی اور تمام شعبوں کی ترقی ہوگی۔
انہوں نے بجٹ کو لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ ایسی صورتحال میں پیش کیا گیا ہے کہ کورونا بحران نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کورونا بحران کی وجہ سے عام شہریوں پر بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “کورونا کی وجہ سے بہت سے ماہرین یہ فرض کر رہے تھے کہ حکومت عام شہریوں پر بوجھ بڑھائے گی۔ لیکن مالی استحکام کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے بجٹ کا سائز بڑھانے پر زور دیا۔ ‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ بجٹ سے کورونا کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے انسانی وسائل میں ترقی ہوگی، نئی بہتری آئے گی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں حکومت نے مالی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بجٹ کے سائز میں اضافہ پر زور دیا ہے اور شہریوں پر دباؤ نہیں ڈالا ہے۔
حکومت نے ہمیشہ بجٹ کو شفاف بنانے کی کوشش کی ہے۔ بجٹ میں قواعد و ضوابط کو آسان بنا کر عام لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں املاک میں اضافے اور فلاح و بہبود سے متعلق علاقوں پر توجہ دی گئی ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مائکرو ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔



















