ایرانی صدر حسن روحانی نے بھگدڑ کے واقعے کو ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیا ہے۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سعودی عرب میں حج کے دوران پیش آنے والے بھگڈر کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
منیٰ کے مقام پر جمعرات کو پیش آنے والے اس حادثے میں سعودی حکام نے 769 ہلاکتوں اور 934 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ہلاک ہونے والے 130 سے زائد افراد کا تعلق ایران سے ہے۔
’منیٰ جیسے واقعات انسانی اختیار سے باہر ہیں‘
منیٰ کے ہلاک شدگان کی شناخت کا عمل جاری
ایرانی صدر حسن روحانی نے بھگدڑ کے واقعے کو ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیا ہے۔
ہلاک شدگان کی شہریت
ایران: کم ازکم134
موروکو: 87 (میڈیارپورٹس)
کیمرون: کم ازکم 20
نائجر: کم ازکم 19
انڈیا: 18
مصر : 37
چاڈ: 11
پاکستان: 18
صومالیہ: 8
ان کا کہنا تھا کہ وہ ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں اور اس واقعے اور رواں سال حج کے دوران پیش آنے والے ایسے ہی دیگر واقعات کی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ایران ایک حادثے پر سیاست کر رہا ہے۔
اس سے قبل سعودی عرب کے مفتی اعظم نے کہا تھا کہ حج کے دوران ہونے والی 700 سے زیادہ ہلاکتوں جیسے واقعات کو روکنا انسانی اختیار سے باہر ہے۔
خیال رہے کہ مفتی اعظم نے ملک کے وزیرِ داخلہ، نائب وزیراعظم اور حج کمیٹی کے سربراہ شہزادہ محمد بن نائف کو کہا تھا کہ وہ اس واقعے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
تاہم سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے حاجیوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے انتظامات پر نظرثانی کا حکم دیا ہے۔
نائجیریا نے سعودی حکومت کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ نائجیریا کے حجاج کی جانب سے ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


