ملیشیا کے نائب وزیراعظم احمد زاہد حمید نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر نائیک کو پانچ سال پہلے پرمننٹ ریزیڈینسی دی گئی تھی اوراس ملک میں رہنے کے دوران ڈاکٹر نائک نے کسی بھی قانون کو نہیں توڑا ہے ، ایسے میں انہیں حراست میں لئے جانے یا گرفتار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
نائب وزیراعظم احمد زاہد حمید کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سلسلہ میں ہندوستان کی جانب سے ملیشیا کی حکومت کو کوئی آفشیل درخواست نہیں ملی ہے۔
ہندوستان کی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے 27 اکتوبر کو ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی جس میں ان پر کئی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


