آگرہ : سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجو کیشن (سی بی ایس ای)سے منسلک اسکولوں کے اندر اور دو سو میٹر کے دائرے میں چپس، سموسہ ،چاکلیٹ، پیزااور برگرسیمت دیگر کئی جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ بورڈ نے اسکول انتظامیہ کو اس سے متعلق احکام جاری کرکے مکمل طور پر اسے نافذ کرانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔اسے یقینی بنانے کی ذمہ داری اسکول انتظامیہ کو دی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس کے لئے ٹیچرس ،گارجین ،طلبہ اور کینٹین آپریٹر سمیت سات سے 10لوگوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔کمیٹی بچوں کو اچھا اور صحت مند کھانا فراہم کرانے کو یقینی بنائے گی۔یہ کمیٹی طے کرے گی کہ اسکول کینٹین میں کھانے پینے کا سامان کس طرح تیار کیا جائے ۔
ذرائع نے بتا یا کہ بچوں کا لنچ باکس دیکھکر گائڈ لائن کے مطابق کھانے پینے کی چیزوں طے کرنے کی ذمہ داری بھی اس کمیٹی کی ہوگی۔باقاعدہ بچوں کا قد ،وزن اور باڈی ماس انڈیکس( بی ایم آئی) بھی چیک کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اسکول کو باقاعدہ طور پر ینوٹریشن ایجوکیشن اور بیداری پروگرام بھی چلانے ہیں تاکہ بچوں میں اچھی عادتیں پیدا ہوسکیں۔قابل ذکر ہے کہ خاتون اور بچوں کی بہبود کی وزارت نے حال ہی میں ملک کے اسکولوں اوران کے اطراف میں ایک سروے کرایا تھا۔”ہائی فوڈس ان فیٹ سالٹ اینڈ شوگر(ایچ ایف ایس ایس )اینڈ پرموشن آف ہیلدی اسنیکس اس اسکول آف انڈیا”کے نام سے سروے کی رپورٹ آنے کے بعد سی بی ایس ای نے اسکولوں کے اندر اور دوسو میٹر کے دائرے میں جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے ۔غذائی مادوں میں ایچ ایف ایس ایس کی زیادتی مستقبل میں ٹائپ ٹو ڈایبٹیز ،ہائپر ٹینشن ،ڈائسلیپڈیمیا،کرونک اور ہائپر انسولینیمیا جیسی سنجیدہ بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔یہ بچوں کے جسمانی اور ذہنی ارتقا میں بھی رکاوٹ پیدا کرسکتی ہیں۔



















