اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔
دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔
علاوہ ازیں گزشتہ ماہ امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔
یمن جنگ کے خاتمے کی حمایت امریکی سینیٹ کی جانب سے منظور کی گئی ایک علیحدہ قرار داد میں یمن میں جاری جنگ میں سعودی اتحاد کی حمایت اور امریکا کے ملٹری تعاون کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ یمن میں جاری جنگ میں امریکا قانونی طور پر ملوث نہیں اور سعودی اتحاد کی جانب سے حوثی باغیوں پر کیے جانے والے فضائی حملوں کے خاتمے کی حمایت کرتا ہے۔