سعودی عرب نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب سعد الحریری کی جانب سے جان کو خطرے کے خدشات پر لبنانی فوج نے کہا ہے کہ انھیں سابق وزیر اعظم کے خلاف کسی سازش کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فوج کے علاوہ لبنانی خفیہ ایجنسی کے سربراہ میجر جنرل عباس ابراہیم نے بھی کہا ہے کہ انھیں ملک میں سیاست دانوں کے خلاف کی جانے والی کسی سازش کے منصوبے کے بارے میں علم نہیں ہے۔
