?صبااکبر آبادی کی ایک یادگار تحریر

❄آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ کی نشر گاہ سے ایک مشاعرہ ہورہا تھا جس میں اس دور کے تمام ممتاز اور قابل ذکر شعراء شریک تھے۔ سہا مجددی، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی، اور آرزو لکھنوی ایسے شاعر تھے جن کو سننے کے اشتیاق میں ایک دوست کے گھر چلا گیا تھا جن کے گھر میں بجلی بھی تھی اور ریڈیو سیٹ بھی۔ آگرے میں یہ چیزیں چند مسلمان گھروں تک محدود تھیں البتہ ۱۹۳۹ء کی جنگ عظیم دوم کے دور میں قریب قریب تمام متوسط الحال گھروں میں بجلی بھی آگئی تھی اور ریڈیو کے ڈبے بھی جمع ہوگئے تھے۔ مگر یہ مشاعرے والی بات ۱۹۳۹ء سے کئی سال پہلے کی ہے۔ غالباً ۱۹۳۵ء یا ۱۹۳۶ء کا زمانہ تھا۔ جگر مرحوم نے اپنی مشہور غزل:
’آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی‘
اپنے مخصوص ترنم سے پڑھ کر ریڈیو اسٹیشن کی چھت اڑادی تھی۔ پھر علامہ سیماب اکبر آبادی نے اپنی غزل ارشاد فرمائی اور حسب منصب داد وصول کی۔ آخر میں علامہ آرزو نے غزل شروع کی۔
معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے
دل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے
داد و تحسین کے شور میں ایک تیز آواز ابھری۔ دیکھو بھائی غزل یوں کہی جاتی ہے۔ یہ آواز سہا مجددّی کی تھی جن کی کوتاہ قامتی کے باوجود ادبی قدوقامت بلند تسلیم کی جاتی ہے۔ اس فقرے پر مشاعرہ گاہ میں کیا اثر لیا گیا یہ تو وہی جانیں جو وہاں موجود تھے۔ مگر ریڈیو سیٹ سے ایک آواز اور آئی۔ سہاؔ صاحب یہ کیا غضب کررہے ہیں۔ مجھے چند شعر عرض کرنے دیجئے۔ یہ آواز علامہ آرزوؔ کی تھی۔ لہجے میں انکسار اور متانت تھی۔ پھر مطلع سے مقطع تک تغزل کا ایک سیلاب تھا جو اس وقت تک پڑھے گئے تمام کلام کو اپنی روانی میںبہا لے گیا۔ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ علامہ آرزوؔ نیو تھیٹرز کلکتہ میں نغمہ نگاری کی خدمت سے وابستہ ہوگئے۔ اب اُن کے گیتوں نے، کے، سی ڈے، سہگل، بروا، کانن بالا کی آوازوں میں ڈھل کر فلمی دنیا کی نغمہ نگاری میں انقلاب برپا کردیا:
تیری گٹھری میں لاگا چور مسافر جاگ ذرا
یا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
ایسے غیر فانی نغمے تھے کہ آج بھی اگر اُن کا ریکارڈ سنا جائے تو اہل دل جھوم جائیں۔
اس وقت تک میں نے علامہ آرزو کو نہیں دیکھا تھا۔ مگر حسبِ عادت ان کا ایک خاکہ ذہن میں قائم کرلیا تھاکہ لکھنوی سفید ٹوپی آڑی لگی ہوگی کھلتا چمپئی رنگ ہوگا، انگرکھا اور تنگ مہری کا پائجامہ پہنے ہوں گے، عمر یہی کوئی چالیس برس ہوگی، پٹے چُھوٹے ہوئے ہوں گے
چھوٹی چھوٹی بل کھاتی مونچھیں ہوں گی، ڈاڑھی منڈھی ہوئی ہوگی۔ آنکھوں میں سرمہ اور لبوں پر پانوں کی دھڑی جمی رہتی ہوگی۔ غرض یہ کہ علامہ آرزو کی ایک ذہنی تصویر پیش نظر رہتی تھی کہ کوئی رنگیلا، چھبیلا لکھنو کا بانکا ہوگا جو شعر میں درجہ استادی پر فائز ہے مگر ان تمام تفریحات کا عادی ہوگا جو اس وقت لکھنو کے ذکر سے وابستہ تھیں۔
دو تین مرتبہ ایک ایک دو دو دن کی تجارتی ضرورتوں سے لکھنو جانے کا اتفاق بھی ہوا مگر نہ کسی شاعر سے ملاقات ہوئی اور نہ کسی ادبی شخصیت سے ملنے کا اتفاق ہوا سوائے حضرت ثاقب لکھنوی جو مرزا بزم آفندی صاحب کے خالہ زاد بھائی تھے۔ اور آگرہ چھوڑ کر لکھنؤ جا بسے تھے۔ حضرت ثاقب بڑی محبت اور مروت کے بزرگ تھے اور مجھ سے بڑی شفقت سے پیش آتے تھے۔ اس لیے لکھنو پہنچ کر ان کی خدمت میں حاضر نہ ہونے کو میں بے ادبی سمجھتا تھا۔ حضرت ِ ثاقب کے یہاں سراج لکھنوی اور ایک ادیب و محقق جناب سید مسعود حسین رضوی ادیب سے ملاقات ہوئی۔ اسے میرے مزاج کی ایک خرابی سمجھئے کہ میں از خود کسی سے متعارف نہیں ہوتا ۔ بے شمار مواقع زندگی میں ایسے آئے کہ ان لوگوں کو دیکھتا رہ گیاجن کو میں جانتاتھا اور جو میرے نام سے واقف تھے۔ لکھنوہی کی ادبی شخصیتوں سے لکھنو کے باہر تعارف ہوا وہ بھی اس طرح کہ وہ حضرات خود مجھ سے مخاطب ہوئے یا کوئی تعارف کا وسیلہ بنا۔ ایسی شخصیتوں میں نواب جعفر علی خاں اثر لکھنوی، پروفیسر احتشام حسین، مسعود رضوی ادیب، اسرار الحق مجاز ردولوی، آل احمدسرور، سراج لکھنوی وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
تو ذکر ہورہا تھا علامہ آرزو لکھنوی کا جن سے لکھنو میں کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ۶۔۱۹۴۵ء کا زمانہ آگیا۔ بمبئی میں میری فیکٹری کے ہزاروں روپے وہاں کے دکانداروں کے پاس واجب الادا تھے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ مگر رقم کی وصولیابی کے لیے میرا بمبئی جانا ضروری تھا۔ چنانچہ اللہ کا نام لے کر پنجاب میل سے روانہ ہوگیا۔ محمد علی روڈ اور بھنڈی بازارکے مقام ا تصال پر مانڈوی پوسٹ آفس کے اوپر ایک کوکنی مسلمان غنی بھائی کا مسافر خانہ تھا جن سے قدیمی تعارف تھا۔ اسی مسافر خانے کو میں نے رہائش کے لیے مناسب سمجھا۔ بمبئی میں میں نے ایک خاکی پتلون اور قمیص کو اپنا لباس بنالیا۔ ہندو علاقوں میں جانے سے گریز کرنے لگا۔ میرے مقروض دُکاندار زیادہ تر فورٹ کے علاقے میں تھے۔ محمد علی روڈ سے بس پکڑتا اور اپنی منزل مقصود پر چلا جاتا۔ ایک ہفتہ رقوم کی وصولیابی میں صرف ہوگیا تو الہ آباد بینک کے ذریعہ ڈرافٹ بنوا کر روپیہ فیکٹری روانہ کردیا۔ اب ذرا فرصت ملی تو جی چاہا کہ دو ایک دن بمبئی کی سیر بھی کرلی جائے۔ بمبئی سے ایک ہفتہ وار پرچہ ’سروش‘ نکلتا تھا۔ اس کے ایڈیٹر صاحب وسیم چشتی اپنی منظومات نظر ثانی کے لیے مجھے آگرے بھیج دیا کرتے تھے۔ انہیں بھی ایک پوسٹ کارڈ لکھا کہ میں غنی بھائی کے مسافر خانے میں مقیم ہوں۔ فرصت ہو تو مل جائیے۔ بمبئی کے پوسٹ آفس والے ایسے مستعد نکلے کہ وہ پوسٹ کارڈ اسی شام وسیم چشتی صاحب کو مل گیا۔ دوسرے دن صبح صبح وہ تشریف لے آئے۔ ان کے تیور سے معلوم ہوتا تھا کہ بمبئی حسب معمول پُرامن ہے کوئی فساد جھگڑا نہیں ہے۔ حالانکہ روزانہ درجنوں انسان قتل ہورہے تھے۔ وسیم چشتی صاحب نے یہ مژدہ سنایا کہ شوکت حسین رضوی کی فلم کے نغمے لکھنے کے لیے جناب نجم آفندی حیدر آباد( دکن) سے آئے ہوئے ہیں۔ سنتے ہی جی مچل گیا کہ کسی طرح نجم صاحب سے ملاقات ہو۔ نجم صاحب سے ۱۹۳۴ء کے بعد سے اب تک ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ۱۹۳۴ء میں وہ جوتوں کے ایجنٹ کی حیثیت سے حیدر آباد دکن گئے تھے۔ اور وہاں شہزادہ معظم جاہ کے کلام کی اصلاح پر مقرر ہوگئے تھے۔ وسیم چشتی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ جے جے اسپتال کے مقابل ایک حکیم صاحب مطب فرماتے ہیں۔ تمام اہل ذوق ادیب روزانہ شام کو حکیم صاحب کے مطب میں بالالتزام جمع ہوتے ہیں۔ نجم صاحب بھی وہاں آتے ہوں گے ورنہ ان کا پتہ وہاں سے معلوم ہو ہی جائے گا۔ وسیم چشتی صاحب تو آتش شوق بھڑکا کر چلے گئے۔ میں نے بڑی بے صبری سے دن کاٹا۔ شام ہوتے ہی بتائے ہوئے راستے پر چل دیا۔ حکیم صاحب کا مطلب میری قیام گاہ سے کوئی فرلانگ بھر ہوگا۔ خالص مسلمانوں کا علاقہ تھا۔ لہٰذا بے خطر ٹہلتا ہوا حکیم صاحب کے مطب تک چلا گیا۔ وہاں جا کر دیکھا حضرت جوش ملیح آبادی، نظر مالیگانوی کے علاوہ ایک بزرگ سانولا رنگ، سیاہ و سپید ترشی ہوئی ڈاڑھی، سر پر سیاہ ایرانی ٹوپی اور بنفشی رنگ کے کپڑے کی شیروانی زیب تن فرمائے ہوئے جوش صاحب سے مخاطب ہیں اور طرزِ تخاطب اور نفس مضمون کچھ یوں تھا:
’’میاں اصل بات یہ ہے کہ جب تک لفظ کی بنیاد تک نہ پہنچو گے اس کی ساخت سمجھ میں نہیں آئے گی۔ بہت سے الفاظ جو موجودہ صورت میں مفرد معلوم ہوتے ہیں وہ مرکبات ہیں مگر امتداد زمانہ نے انہیں نہ صرف مفرد بنادیا ہے بلکہ ان کا صوتی آہنگ بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ مثال کے طور پر’مزدور‘ جسے بروزن مقدور یا منظور بولتے ہیں۔ دراصل اس کی بنیاد دو مفردات پر ہے۔ ایک ’مزد‘ دوسرا ’مزد‘ کے معنی معاوضہ حق المحنت۔’ در ‘کے معنی والا یعنی حق المحنت پانے والا۔ چنانچہ یہ لفظ عوام کی زبان سے ہوتا ہوا جب ارباب ِتحریر تک پہنچا تو میم کو مفتوح کرکے زا کو ساکن اور دال ، وائو، را کو ’دور‘ کردیا گیا۔ یوں بے چارے ’مزدر‘ کے یہ لفظ مزدور ہوگیا… یہ تھے علامہ آرزو لکھنوی سب لوگ ان کی تقریر میں اتنے مستغرق تھے کہ کسی نے میری طرف توجہ بھی نہ کی حالانکہ جوش صاحب سے متعدد مرتبہ ملاقات ہوچکی تھی۔ بلکہ صد ہا مشاعرے ان کے ساتھ پڑھ چکا ہوں۔ مگران کی حس ناشناسی اس وقت اُن کے ساتھ تھی۔ وہ بھی دوسروں کی طرح مجھے بیگانہ وار تکنے لگے۔ میں نے حکیم صاحب سے نجم آفندی کی قیام گاہ کے بارے میں استفسار کیا۔ حکیم صاحب نے نہایت مشفقانہ اندا ز میں فرمایا کہ نجم صاحب یہاں گاہ گاہ تشریف لاتے ہیں۔ ان کا عارضی قیام سید شوکت حسین رضوی کے مکان پر ہے مگر میں آپ کو وہاں جانے کا مشورہ نہیں دوںگا۔ کیونکہ راستہ خالص ہندو آبادی میں سے ہو کر گزرتا ہے۔ میں نے حکیم صاحب کے مخلصانہ مشورے کاشکریہ ادا کیا اور بغیر اپنا تعارف کرائے وہاں سے رخصت ہوگیا۔ جوش صاحب کی بیگانگی کی وجہ سے طبعیت میں کچھ تکدر پیدا ہوگیا تھا لیکن حضرت علامہ آرزو لکھنوی کو دیکھ لینے کی مسرت ایسی تھی کہ جس نے وہ تاثر دیر تک قائم نہیں رہنے دیا۔ قیام پاکستان کے بعد’ ڈان اخبار‘ کے زیر اہتمام دو تین انڈو پاک مشاعرے منعقد ہوئے۔ ان ہی مشاعروں میں سے کسی ایک مشاعرے میں شرکت فرمانے کے لیے علامہ آرزو بمبئی سے تشریف لائے تھے۔ کراچی میں علامہ کے شاگردوں اور مداحوں میںسے کئی حضرات موجود تھے۔ سید آل رضا ، سید شہنشاہ حسین ارم لکھنوی علامہ آرزو کے تلامذہ میں سے تھے۔ ان کے علاوہ غلام مصطفیٰ اسما انصاری لکھنوی، سید ذاکر حسین صدا لکھنوی بھی اسی خانوادہ شعر سے وابستہ تھے۔ پھر چودہری جلیل احمد لکھنوی تھے جو انگریزی ادب کے بہت بڑے طالب علم تھے اور ذوق شعر بھی نہایت پاکیزہ رکھتے تھے۔ سید ہاشم رضا صاحب اس زمانے میں کراچی کے سیاہ وسپید کے مالک تھے۔ غرض ان سب حضرات نے کوشش کرکے آرزو صاحب کو بمبئی واپس جانے سے باز رکھا۔ سید ذوالفقار علی بخاری کو اللہ کروٹ کروٹ جنت بخشے اہل علم و ا دب کے بڑے قدر شناس تھے۔ انہوں نے علامہ آرزو کے اعزاز میں اپنے مکان پر کئی شعری نشستیں منعقد کیں اور ریڈیو پاکستان میں بھی کوئی ذریعہ آمدنی تلاش کیا۔ اس دوران علامہ آرزو کو چودہری جلیل احمد نے اپنے
کان واقع پیر کالونی میں ٹھہرایا کیونکہ وہ تن تنہا ایک پورے مکان کے مالک تھے اور اس زمانے میں مکانوں کی بڑی قلت تھی۔ ذاکر حسین صد راور سید غلام مصطفے سما بھی پیر کالونی میں مقیم تھے، مولوی لقاعلی بدایونی مبلغ امامیہ مشن کا گھر بھی اسی کالونی میں تھا اور مفتی طہور حسین اثر بدایونی بھی یہیں مقیم تھے۔ اس طرح وہاں اچھا خاصا ادبی ماحول بن گیا تھا۔ اس دوران شعری نشستوں اور ادبی محفلوں میں علامہ آرزو سے میری ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اور وہ غیر معمولی شفقت کا مظاہرہ فرماتے رہے۔
علامہ آرزو میں خلوص، سادگی، انکسار اور محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ انہیں اپنے شعری مرتبے کی بلندی کا ذرا بھی غرور نہیں تھا۔ وہ پیر الہی بخش کالونی سے بس میں بیٹھ کر بولٹن مارکیٹ کے اسٹاپ تک آتے اور وہاں سے پیدل چلتے ہوئے میرے دفتر تشریف لاتے۔ دفتر میں جو بازار کی چائے آتی تھی خوش ہو کر پیتے اور تعریف کرتے۔ ان سے مختلف موضوعات پر گھنٹوں باتیں ہوتی تھیں۔ میری درخواست پر اپنا کلام مرحمت فرماتے۔کئی غزلیںمیری خواہش پر اپنے خط میں مجھے عنایت فرمائیں، لکھتے ہوئے ہاتھ میں لرزش ہوتی تھی۔ فرمائش کرکے مجھ سے بھی سنتے۔ اس طرح دو تین گھنٹے گزار کر تشریف لے جاتے۔ میرے دفتر میں سید علی حسنین زیباردولوی مرحوم تقریباً بلا ناغہ تشریف لاتے تھے اور مجھ سے محبت کا رشتہ رکھتے تھے۔ علامہ جب میرے اشعار پر دل کھول کے داد دیتے تو زیبا صاحب فخر سے سربلند کرلیتے اور خود بھی میرے بارے میں توصیفی کلمات ادا کرتے۔ میں تعریف سے خوشی ضرور محسوس کرتا ہوں اور تنقید سے کبیدہ خاطر بھی نہیں ہوتا لیکن بھائی جان (زیبا صاحب) جس طرح علامہ کے سامنے میرے بارے میں کلمات تحسین ادا کرتے وہ ان کی انداز محبت کی دلیل ضرور ہوتے لیکن مجھے اس لیے نہیں زیادہ بھاتے تھے کہ میری خواہش یہ ہوتی تھی کہ میں علامہ کے کلام اوران کی گفتگو سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کروں۔ اور مجھے فخر ہے کہ علامہ آرزو میری فرمائش پوری کرتے، میرے سوالوں کو غور سے سنتے، ان کا تفصیل سے جواب مرحمت فرماتے۔
دو ایک مرتبہ میرے غریب خانے پر بھی ادبی محفلیں منعقد ہوئیں اور میری درخواست پر علامہ آرزو نے ہر بار شرکت فرمائی وہ بھی اس طرح کہ مشاعرے سے قبل تشریف لے آتے ۔ آتے ہی فرماتے تمہاری محبت کھینچ لائی ہے ورنہ اب چلنے پھرنے کی مشقت برداشت نہیں ہوتی۔ پھر مختلف موضوعات پر باتیں کرتے اور اپنی وہ غزل سناتے جو اس روز کے مشاعرے کے لیے کہی تھی۔ علامہ آرزو کو دیکھ کر یا ان سے ملنے کے بعد کبھی یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ بہت جلد بزم شعر و سخن کو سونا کر جائیں گے۔ بہت مختصر علالت کے بعد علامہ آرزو پیر کالونی میں چودھری جلیل احمد لکھنوی کے مکان میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے جنازے میں کراچی کے سب ہی قابل ذکر شعراء موجود تھے۔ نبی باغ میںا ن کی تدفین کے بعد سید ذوالفقار علی بخاری نے تجویز پیش کی کہ مرحوم کی یاد میں انجمن قائم کی جائے جس پر وہیں اور اسی وقت عمل ہوا۔ اور’’ انجمن ِآرزو‘‘ قائم ہوگئی سیدآل رضا صدر، اور غالباً سما انصاری مرحوم معتمد مقرر ہوئے۔ اس انجمن کا پہلا مشاعرہ بخاری مرحوم کے دولت خانے واقع بھرگری روڈ پر منعقد ہوا۔ مصرعہ طرح تھا:
دل تو ہے پہلو میں لیکن آرزو باقی نہیں
اس مشاعرے میں نہال سیوہاری مرحوم کا یہ شعر ایسا پھولا پھلا کہ پھر اس قافیہ میں کسی نے شعر نہیں پڑھا:
جذبہ پیکار آدم رہ نہیں سکتا خموش
دوستوں سے جنگ ہوگی گر عدو باقی نہیں
اسی مشاعرے کے بعد یہ مشاعرہ گشتی ہوگیا۔ کبھی کسی رکن کے ہاں ہوتا کبھی کسی کے ہاں ہوگا مگر سب سے زیادہ مشاعرے جناب منور عباس شہاب ایڈوکیٹ کے دولت کدے پر ہوئے اور ایسے ہوئے کہ اب بھی ان کی یاد آتی ہے۔ جب تمام اراکین رفتہ رفتہ دستکش ہونے لگے تو پھر منور عباس صاحب نے مستقلاً یہ مشاعرہ اپنے اہتمام سے شروع کردیا۔ جو پابندی سے منعقد ہوتا رہا۔ محرم الحرام میں دو مسالمے، ربیع الاول میں نعتیہ مشاعرہ، باقی مہینوں میں غزل کے مشاعرے باقاعدہ ہوتے ہیں۔ اور اہلِ ذوق وہاں اپنی شعری تشنگی بجھالیتے ہیں۔ جوش صاحب جب تک کراچی میں مقیم رہے ہر مشاعرے میں شریک ہوتے اور خوب خوب لطف اٹھاتے۔ بے مزہ شعر پر ان کا مخصوص فقرہ اب تک تازہ معلوم ہوتا ہے جب وہ زیر لب فرماتے تھے ’عبدالصمد‘ اور ہم نشیں یہ فقرہ سن کر پھڑک جاتے تھے۔ ہائے کیا کیا لوگ اٹھ گئے۔ جوش گئے، ہادی مچھلی شہری گئے، مرزا حامد حسین حامد گئے، قمر جلالوی گئے، حفیظ ہوشیارپوری گئے، ذوالفقار علی بخاری گئے، سید آلِ رضا گئے اور علامہ آرزو بھی گئے۔
کچھ عرصہ قبل منور عباس صاحب کا بھی انتقال ہوگیا اور ’’انجمن آرزو‘‘ کے مشاعروں کا سلسلہ بند ہوگیا۔ اللہ بس باقی ہوس۔?















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


