46 سالہ تبو غیر شادی شدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے معاشرے میں لوگوں کو یہ بات تسلیم کرنے میں دشواری ہوتی ہے کہ کوئی خاتون اپنی مرضی یا پسند سے تنہا رہنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
‘تبو کی یہ بات کافی حد تک درست کہی جا سکتی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں جہاں لڑکی کو ہوش سنبھالتے ہی کہا جاتا ہے کہ وہ پرایا دھن ہے اسے کسی دوسرے کے گھر جانا ہے وہ کسی اور کی امانت ہے اب ایسے میں لڑکی ‘دوسرے کے گھر’ نہ جانے کا فیصلہ کرے تو سوال تو اٹھیں گے۔
Pages: 1 2














