تحقیق کے مطابق ٹوئیٹر پر ایک درست خبر 1500 افراد تک جتنے وقت میں پہنچتی ہے ، جھوٹی خبر یا افواہ 6 گُنا کم وقت میں اتنے ہی افراد تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جھوٹے قصّے کہانیاں “ظرافت کے مفروضے” کی بنیاد پر زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ لوگ ان خبروں کو اس لیے شیئر کرتے ہیں کیوں کہ یہ سچّی اور درست خبروں سے زیادہ حیران کر دینے والی ہوتی ہیں۔
تحقیقی رپورٹ میں اس نتیجے پر بھی پہنچا گیا ہے کہ کسی بڑے واقعے یا ایونٹ کے دوران ٹوئیٹر پر جھوٹی خبروں اور افواہوں کا رجحان بڑھ جاتا ہے جیسا کہ 2012ء اور 2016ء میں امریکی صدارتی انتخابات کے موقع پر ہوا۔


















