میچ کے آغاز سے پہلے عام خیال یہ تھا کہ پاکستان باآسانی فائنل میچ جیت لے گا لیکن بنگلہ دیش کی ٹیم کے تیور بہت جارحانہ تھے۔ انہوں نے اپنی شاندار باؤلنگ اور فیلڈنگ سے پاکستان کو 236 رنز کے قلیل اسکور پر محدود کردیا۔ اس اسکور تک پہنچنے کے لیے پاکستان کو اپنے نچلے نمبروں کے بیٹسمینوں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ پاکستان نے اپنی اننگز کے آخری اوور میں 19 رنز بنا کر اپنی پوزیشن کو بہتر کیا اور یہ رنز میچ میں ہار اور جیت کے درمیان فرق ثابت ہوئے۔
بنگلہ دیش نے شاندار انداز سے اس اسکور کے تعاقب کا آغاز کیا اور بغیر کسی نقصان کے 68 رنز بنا لیے۔ لیکن پھر بنگلہ دیش کی 3 وکٹیں یکے بعد دیگرے گر گئیں اور پاکستان کی جیت کی امیدیں روشن ہوئیں۔ جس کے بعد بنگلہ دیش کے بہترین کھلاڑی شکیب الحسن نے ناصر حسین کے ساتھ 89 رنز کی شراکت قائم کی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ شراکت بنگلہ دیش کی جیت کے لیے کافی ہوگی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
فائنل میں شکست کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑی آبدیدہ ہوگئے پہلے عمر گل نے ناصر حسین کی وکٹ حاصل کی اور پھر اعزاز چیمہ نے شکیب الحسن اور مشفق الرحمٰن کی وکٹیں لے کر بنگلہ دیش کے کیمپ میں ہلچل مچا دی۔ بنگلہ دیش کے کھلاڑی محمود اللہ کی رہنمائی میں اپنے ہدف کی جانب بڑھ رہے تھے۔ آخری اوور میں بنگلہ دیش کو جیت کے لیے صرف 9 رنز درکار تھے لیکن وہ اعزاز چیمہ کے اس اوور میں صرف 6 رنز ہی بنا سکے۔ یوں پاکستان نے یہ میچ 2 رنز سے جیت کر ایشیا کپ کا اعزاز دوسری اور آخری بار حاصل کیا۔