چنانچہ ایسے مریضوں کے خلیے گلوکوز کو جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اگر کسی ایک کھانے میں کاربو ہائیڈریٹس زیادہ مقدار میں کھا لیے جائیں تو بلڈ شوگر لیول بڑھ جاتا ہے اور کچھ گلوکوز پیشاب میں خارج ہونے لگتا ہے۔
شوگر کے مریضوں کے کھانوں میں ایسی غذائیں شامل کرنے پر توجہ دی جاتی ہے جو کاربوہائیڈریٹس کی زیادہ مقدار پر مشتمل نہ ہوں۔ کاربوہائیڈریٹس سادہ یا پیچیدہ اقسام کے ہوتے ہیں لیکن تمام کاربوہائیڈریٹس ایک، دو یا مختلف شوگر مالیکیولز سے بنے ہوتے ہیں۔ ان مالیکیولز کا باہمی تعلق جتنا چھوٹا ہوتا ہے وہ اسی تیزی سے جسم میں جذب ہوجاتے ہیں۔ پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کے مالیکیولز آپس میں لمبے تعلق سے جڑے ہوتے ہیں چنانچہ ان کی ٹوٹ پھوٹ اور انجذاب سادہ کاربوہائیڈریٹس کے برعکس آہستہ، سست اور بتدریج ہوتا ہے۔
چونکہ یہ کاربوہائیڈریٹس اپنے شکری اجزاء خون میں آہتہ آہستہ شامل کرتے ہیں اس لیے انگریزی میں انہیں ‘‘سلو ریلیزنگ’’ کاربوہائیڈریٹس کہا جاتا ہے۔ ان کے برعکس سادہ کاربوہائیڈریٹس کو ہضم ہونے میں بہت کم وقت لگتا ہے اور وہ تیزی سے گلوکوز میں تبدیل ہوجاتے ہیں چنانچہ ان کے استعمال سے بلڈ گلوکوز لیول تیزی سے بڑھجاتاہے۔ اسی لیے انہیں ، فاسٹ ریلیزنگ کاربوہائیڈریٹسکہتے ہیں۔