
اپنے افتتاحیہ خطبے میں جناب ڈاکٹر سید کلب صادق نے فرمایا کہ حضرت علی کی تعلیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام دہشت گردی کو حرام جانتا ہے۔مہنت دویا گری جی نے فرمایا کہ وہ عظیم شخصیت جو کعبہ میں پیدا ہوئی اور جسکی شہادت مسجد میں ہوئی وہ کوئی معمولی انسان نہیں تھا اور وہ جو قلعہ خیبر کا دروازہ اکھاڑ سکتا تھا اپنے کھانے کے لئے سوکھی روٹیوں پر اکتفا کرتا تھا۔سردار گربندر سنگھ نرمل نے کہا کہ جناب امیر نے حصول علم کو ضروری قرار دیا۔


















