مُمبرا:10جولائی(ندیم صدیقی) فتحپور سے ملنے والی اطلاع کے مطابق دور ِحاضر میں اُردو کے ممتاز و منفرد اور سینئر شاعر (83سالہ) غلام

مرتضیٰ راہی آج علی الصباح فتح پور(ہسوہ) میں انتقال کر گئے۔ وہ اِدھرایک مدت سے صاحب ِفراش تھے۔ اِنا للہ وانا الیہ راجعون
غلام مرتضیٰ راہی 23مارچ 1937ع کو فتح پور کے نواح میں پیدا ہوئے تھے۔
وہ گورنمنٹ اترپردیش کے ٹرانسپورٹ شعبے میں جسے وہاں روڈویز کہا جاتا ہے، اکاؤنٹ افسر کےطور پرملازم تھے اور وہیںسے وہ سبکدوش ہوئے۔
انہوں نے کچھ دنوں اُردو صحافت میں بھی خدمات انجام دیں ۔ گریجویشن کرنے کے بعدکانپور کے مشہور روزنامہ’’ سیاست جدید ‘‘میں وہ سب ایڈیٹر کے طورپر کام کر چکے ہیں۔
غلام مرتضیٰ راہی کا کلام ملک و بیرونِ ملک کے مقتدر رسائل میں تواتر سےشائع ہوتا رہا ہے۔ ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر اہل نظر سے داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں جن کے نام اس طرح ہیں:
لامکاں ، لاریب ، حرفِ مکرّر ، لاکلام ، سدابہار غزلیں ( ہندی ) ،لاشعور ، لاسخن ، گلِ سر سبد (انتخابِ کلام ) اور ’’کلیات ِراہی‘‘ بھی
طبع ہو چکا ہے۔ نیز ’’راہی کی سرگزشت ‘‘ کے زیر عنوان ان کی سوانح حیات پر مبنی کتاب بھی منظر عام پر آچکی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے
مختلف واقعات بہت بے تکلفی سے بیان کیے ہیں۔
مختلف رسائل میں ان کے گوشے بھی شائع ہوئےان کے فکروفن پر بھی معروف ناقد عشرت ظفر نے ایک کتاب’ حرفِ باریاب‘‘ کے نام سے لکھی۔
محمد ادریس رضوی کی کتاب ” کلامِ راہی صنائع و بدائع ” بھی چھپ چکی ہے نیز ڈاکٹر حسن نظامی کی ” غلام مرتضیٰ راہی حیات اور کارنامے ” جیسی کتاب بھی ان کی زندگی ہی میں شائع ہوئی۔ راہی نے ، صفوت علی صفوت کی دو کتابوں “مثنویِ وقت ” اور ” مثنویِ رسول ” کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا ۔
اتّر پردیش اُردو اکادمی ، بہار اردو اکادمی ، بھارتیہبساہتیہ کار سنسد بہار ، آل انڈیا ماجد ایوارڈ اور میر اکادمی لکھنؤ(وغیرہ) نے انعام و اعزاز سے بھی انھیں نوازا گیا۔ ان کے پسماندگان میں صرف بیوہ ہیں ،افسوس کہ وہ لاولد تھے۔
مختصر یہ کہ انہوں نے ادبیططور پر ایک کامیاب کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ہم لوگ ہر شاعر و ادیب اور فنکار کے ساتھ’ منفرد‘ کا سابقہ لگانے کےعادی ہیں مگر سچ یہ ہے کہ غلام مرتضیٰ راہی اپنے شعری فن میں واقعتاً انفرادیت کے حامل اور تازہ فکر و خیال کےشاعر تھے۔ ان کی رِحلت سے جدید
اُردو غزل کو ایک نقصان پہنچا ہے۔ آج ہی بعد نمازِ ظہر شہر فتحپور
میں واقع ان کے آبائی قبرستان میں راہی کے جسدِ خاکی کو سپردِ لحد کیا گیا۔ فتحپور کے تمام شعبہ ہائے زندگی کے ممتاز اشخاص و افراد نے انھیں نم آنکھوں سے مِٹّی دی۔



















