نیو یارک: ا مریکہ نے خانہ جنگی کا شکار ملک شام میں روس کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع اور نشر ہونے والی کئی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ روس شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کو جدید فوجی ساز و سامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ وہاں اپنے مزید عسکری مبصر بھی بھیج رہا ہے۔ ان رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ روس کے یہ اقدامات اس بات کا مظہر ہیں کہ وہ شام کی جنگ میں براہِ راست حصہ لینے کی تیاری کر رہا ہے تاہم امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروو سے ٹیلیفون پر گفتگو میں انھیں امریکی تشویش سے آگاہ کیا اور کہا اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے تنازع کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جان کیری نے یہ بھی کہا کہ تنازع بڑھنے سے معصوم انسانی جانوں کا زیاں اور پناہ گزینوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس کے اس ممکنہ اقدام سے شام میں امریکہ کی زیرِ قیادت اس اتحاد سے بھی روسی فوج کے تصادم کا خدشہ پیدا ہو جائے گا جو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف سرگرم ہے۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا کہ شام کے مسئلے پر بات چیت رواں ماہ نیو یارک میں جاری رہے گی۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اوباما انتظامیہ کے نامعلوم حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ روس نے اپنی ایک عسکری ایڈوانس ٹیم شام بھیج دی ہے اور ایک ایسے شامی اڈے پر سینکڑوں افراد کی عارضی قیام گاہیں بھی تیار کی ہیں جہاں فضائی ٹریفک کنٹرول کرنے کا موبائل نظام بھی لے جایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان انتظامات سے لگتا ہے کہ روس شام کی مرکزی بندرگاہ لاذقیہ کے قریب واقع اس اڈے پر ایک ہزار عسکری مبصر یا فوجی بھیج سکتا ہے۔















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


