یاد رہے کہ 2 ستمبر 2017 کو ریاست رخائن کے ایک گاؤں انڈن میں سیکیورٹی فورسز اور مقامی بدھ مذہب کے پیروکاروں کی جانب سے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔
ایچ آر ڈبلیو ایشیاء کے ڈائریکٹر بریڈ آدمز نے بتایا کہ ’زمین بوس دیہات میں دو بستیاں وہ بھی شامل تھیں جو روہنگیا فوجیوں کے ظلم و جبر کے دوران نذرآتش ہونے سے بچ گئیں تھیں‘۔
انہوں نے کہا کہ سییٹلائیٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً 55 دیہات کو بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کردیا گیا۔
بریڈ آدمز نے بتایا کہ ’دیہات کو محفوظ رکھنا چاہیے تھا تاکہ اقوام متحدہ روہنگیا حکومت اور فوجیوں کی بربریت کے حوالے سے شواہد اکٹھا کرسکتی‘۔