زخمی کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ ڈاکٹرز سڑکوں پر بھی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔
بالی میں زلزلے کے جھٹکے کئی سکینڈز تک محسوس کیے گئے اور لوگ عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
بالی میں آسٹریلیا کے ایک سیاح مائیکل لینڈسی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر ہوٹل سے لوگ افراتفری میں باہر نکل گئے۔
انھوں نے بتایا کہ سڑکیں لوگوں سے بھری ہوئی تھیں۔
خیال رہے کہ انڈونیشیا میں زلزلے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے کیونکہ یہ ملک ‘رنگ آف فائر’ یعنی مسلسل زلزلے اور آتش فشاں کے دھماکوں کے علاقے میں آباد ہے۔ اس قطار میں پیسفک سمندر کا تقریباً مکمل حصہ شامل ہے۔
دنیا کے نصف سے زیادہ زمین کے باہر فعال آتش فشاں اسی رنگ آف فائر کا حصہ ہیں۔
سنہ 2016 میں، سماترا جزیرے کے شمال مشرقی ساحل پر 6.5 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور 40،000 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔