لکھنو۔ نو منتخب اتر پردیش ریاستی تسلیم شدہ صحافی کمیٹی نے ایک پرانی روایت کو توڑتے ہوئے ایسا کام کیا جسکی صحافتی حلقے کے سبھی لوگوں نے تعریف کی اور خود بھی اس تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔کمیٹی نے کافی عرصے سے علیل چل رہے ایک ہندی روز نامہ کے سابق ملازم اور سینئر صحافی سریندر سنگھ کو انکے گومتی نگر واقع گھر پر پہونچ کر 55ہزار روپیہ کی مدد دی جس سے انکے بچوں کی تعلیم اور مسٹر سنگھ کے علاج میں کچھ مدد ہو
سکے۔
واضح رہے کہ پہلے یہ رقم کمیٹی کے انتخاب کے بعد صحافیوں کے لئے ایک پارٹی میں خرچ ہوتی تھی اس بار انتخاب میں تقریباً32ہزار روپیہ بچے تھے اور کل ہوئی کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں یہ طے کیا گیا کہ صحافیوں کی اس رقم کا استعمال صحافی کے لئے ہی خرچ ہو جس میں کمیٹی کے سبھی اراکین نے اور رقم ملاتے ہوئے 55ہزار روپیہ فوری طور سے سریندر سنگھ کو اقتصادی مدد کے طور پر دینے کا فیصلہ کیا اور یہ رقم آج صبح ہی انکے گھر پہونچاد ی گئی۔
کمیٹی کے صدر پرانشو مشرا کی قیادت میں سکریٹری نیرج ، نائب صدور نریندر سریواستو، سنجے شرما ، جوائنٹ سکریٹری اجے اور امیتوش کے ساتھ خازن اشوک ، ممبران مدت ماتھر ، کاظم رضا ، آشیش سریواستو نے یہ رقم مسٹر سنگھ کے سامنے انکی اہلیہ کے سپرد کی۔ سریندر سنگھ کی اہلیہ نے صحافیوں کی اس پہل کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ کمیٹی نے ایک مسٹر سنگھ کے کنبے کی جانب سے لکھے گئے مالی مدد کے لئے خط بھی پرنسپل سکریٹری اطلاعات نونیت سنگھ اور ریاست کے چیف سکریٹری آلوک رنجن کو کمیٹی نے سونپ کر جلد ہی مدد کی اپیل کی۔ 31اگست کو کمیٹی کے اراکین مسٹر سنگھ سے ملاقات کرنے انکے گھر گئے تھے جہاں پر انکی اہلیہ نے گھر کے حالات سے واقف کرایا تھا۔
کمیٹی کے اس قدم کی تعریف صحافتی حلقے میں کی گئی، کئی صحافیوں نے خود بھی مسٹر سنگھ کو مالی مدد دینے کے لئے کمیٹی سے رابطہ کیا۔ صحافی کمال خان ، شرت پردھان ، حسام الصدیقی ، کاظم مہدی ، حسن ابراہیم ، پرویز زیدی ، شلبھ منی ترپاٹھی ، ونے ، ابھی جیت وغیرہ نے کمیٹی کے اس قدم کی تعریف کی۔



















