گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کی عمارتوں پر حملوں کے بعد پہلی بار القاعدہ کے بانی مقتول اسامہ بن لادن کی والدہ عالیہ غانم کے تاثرات منظرعام پر آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اوائل عمری میں میرے بیٹے کو اسلام پسندوں نے ذہنی طور پر یرغمال بنا لیا تھا اور انہیں برین واش کیا گیا۔
برطانوی اخبار ’گارڈین‘ میں شائع ہونے والے عالیہ غانم کے تازہ تاثرات میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے اسامہ بن لادن کی جدہ میں دوران طالب علمی اخوان المسلمون کے روحانی مشیر کہلوانے والے ڈاکٹرعبداللہ عزام کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ بن لادن شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں اس وقت اکنامک کے طالب علم تھے۔
ناپسندیدہ سرگرمیوں کی وجہ سے سعودی حکومت نے عبداللہ عزام کو ملک سے بے دخل کر دیا تھا۔ بعد ازاں وہ اخوان المسلمون کے روحانی پیشوا بن گئے۔